سعودی عرب: تارکین وطن کے مسائل میں اضافہ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, راشد حسین
- عہدہ, جدہ
سعودی عرب میں اچھے روزگار کا خواب اگرچہ بہت سے جوان تارکینِ وطن کے لیے مکمل چکنا چور نہیں ہوا لیکن یہ معاملہ اب تلخ صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔
گذشتہ 20 سے 30 سالوں سے سعودی عرب میں رہائش پذیر ایسے غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو یہاں سے نکل جانے کے امکانات پر بات کر رہے ہیں۔
ان لوگوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ اب یہاں حالات مشکل ہوتے جا رہے ہیں اور ایک کے بعد ایک ایسا قانون منظور کیا جا رہا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ سعودی شہریوں کو نجی شعبے میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور انھیں ترجیح دینا شامل ہے۔
سعودی عرب میں رہائش کا اجازت نامہ (اقامہ) صرف ایک سال کے لیے جاری کرنا، یہاں پرورش پانے والے بچوں کی عمر بڑھنے پر ان کے ویزے کے لیے زیادہ سختی جیسی مشکلات کی وجہ سے سلطنت میں عرصۂ دراز سے رہائش پذیر غیر ملکی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
خطے میں’عرب سپرنگ‘ یا احتجاجی لہر کے اثرات بھی ہیں اور تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح کم از کم دو ہندسوں میں جا چکی ہے۔ حکومت پر اس صورتِ حال میں اقدامات کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان، بنگلہ دیش، فلپائن، یمن، ایتھیوپیا اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کو گذشتہ تین ماہ کے دوران ملک سے نکال دیا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق چار نومبر 2013 سے اب تک دو لاکھ 84 ہزار غیرقانونی کارکنوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن کو جرمانے اور ویزا پالیسی کی خلاف ورزی میں دی گئی مہلت کے دوران مارچ اور نومبر کے درمیان دس لاکھ غیر ملکی کارکنوں نے سعودی عرب چھوڑ دیا۔ ان میں ایک لاکھ 40 ہزار بھارتی، ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی اور 50 ہزار کے قریب بنگلہ دیشی شامل تھے۔
سعودی عرب میں موجود غیرقانونی کارکنوں کے سکیورٹی اہل کار بھی مستعد ہو چکے ہیں اور انہیں پکڑنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ریاض، جدہ اور مکہ کی کچی بستیوں میں چھاپوں کے دوران ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار کیے جانے والے تارکین میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو پولیس کو مختلف جرائم میں مطلوب تھے، جبکہ غیر قانونی تارکین وطن کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ملک میں آئے روز نئے قواعد و ضوابط متعارف کرانے سے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ماحول میں تبدیلی آ رہی ہے، تاہم اخباری اطلاعات کے مطابق ان اقدامات کو مزید مشاورت کے لیے ابھی روک دیا گیا ہے۔ سعودی وزارتِ محنت اور افرادی قوت ان تجاویز کا جائزہ بھی لے رہی ہے جن کے تحت غیر ملکی کارکنوں کی سعودی عرب میں قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت کو سات سال کر دیا جائے اور اس عرصے کے دوران اپنے اہل خانہ کو لانے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تجویز کردہ نظام کے تحت روز گار کے لیے آنے والا ایک غیر ملکی کارکن اگر اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ قیام کرتا ہے تو اسے ایک کی بجائے دو غیر ملکی افراد تصور کیا جائے گا۔ایک تارک وطن کو اپنی بیوی کے ساتھ سعودی عرب میں رہنے کے لیے ڈیڑھ پوائنٹس حاصل کرنے ہوں گے اور ہر بچے کے لیے ایک پوائنٹ کا ایک چوتھائی حصہ اپنے ذمے لینا ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس کے علاوہ آجروں کو اتنے ہی سعودی شہریوں کو ملازمت دینا ہوگی جتنے وہ غیر ملکی تارکین وطن کو دیتا ہے۔
تارکین وطن کا خیال ہے کہ نئے قوانین متعارف کرانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ تارکین وطن کے خرچ پر زیادہ سے زیادہ سعودی شہریوں کو روزگار دیا جائے۔
اس صورتِ حال میں ٹھیکیداروں کو مزدور حاصل کرنے اور اپنے منصوبے وقت پر مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔







