سعودیہ:دستاویزات کی درستگی کی مدت میں اضافہ

غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد امیگریشن کی قطار میں
،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں معاش کی غرض سے مقیم پاکستانیوں کی تعداد 15 لاکھ ہے

سعودی حکام نے ملک میں مقیم ہزاروں غیر ملکی کارکنوں کو دستاویزات کی درستگی کے لیے دی گئی مدت میں دو ماہ کا اضافہ کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق وہ افراد جو سات ماہ کی دی گئی مدت میں اپنی قانونی حیثیت کی تصدیق نہیں کروا سکے وہ اب یکم مارچ 2014 تک ایسا کر سکیں گے۔

یہ مدت گذشتہ برس تین نومبر کو ختم ہوئی تھی اور اس کے خاتمے پر ہزاروں افراد کو سعودی عرب سے بے دخلی کے خطرے کا سامنا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا کے کئی ایسے ممالک نے جن کے شہری روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہیں، سعودی حکومت سے اس مدت میں اضافے کی اپیل کی تھی ۔

صحافی راشد حسین کے مطابق سعودی عرب کے شعبۂ پاسپورٹ کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل سلیمان الیحییٰ نے جمعہ کو مقامی ذرائع کو بتایا کہ سعودی وزیرِ داخلہ شہزادہ محمد بن نائف نے ان کے محکمے کو حکم دیا ہے کہ وہ تارکینِ وطن کی ایسی دستاویزات کی تصحیح کا عمل مکمل کریں جو پہلے دی گئی مدت کے دوران وزارتِ محنت میں جمع کی گئی تھیں۔

سعودی حکام نے ملک میں ملازمت کے نئے قوانین متعارف کروائے جانے کے بعد چار نومبر 2013 سے غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کو حراست میں لے کر ملک بدر کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا۔

اس کارروائی کے آغاز کے بعد ایسے افراد میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی جن کی دستاویزات تین نومبر کو معافی کی مدت کے اختتام پر تصدیقی مراحل میں تھیں اور ان افراد نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انھیں دستاویزات نہ ہونے پر حراست میں لیا جا سکتا ہے اور انھیں ملک بدری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایمنسٹی سکیم میں دو ماہ کے اضافے کی وجہ سے سعودی حکام اب اس عرصے کے دوران غیر قانونی تارکینِ وطن کی تلاش میں مزدوروں کے رہائشی علاقوں، دکانوں اور کاروباری اداروں پر چھاپے بھی نہیں مار سکیں گے۔

سعودی عرب میں ویزا اور رہائشی پرمٹ ہونے کے باوجود اپنے کفیل کے علاوہ کسی اور جگہ کام کرنا غیرقانونی ہے اور ایسا کرنے والے کو دو برس تک قید اور ایک لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں معاش کی غرض سے مقیم پاکستانیوں کی تعداد 15 لاکھ ہے اور نئے قوانین کے نفاذ کے بعد وہاں غیرقانونی طور پر رہائش پذیر 54 ہزار پاکستانیوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک ساڑھے نو لاکھ پاکستانیوں سمیت چالیس لاکھ غیر ملکی سعودی حکام سے اپنی دستاویزات کی تصدیق کروا چکے ہیں جبکہ ملک میں غیرقانونی طور پر موجود افراد کی تعداد اب بھی دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔