سعودی عرب میں پولیس اور غیر ملکی کارکنوں میں تصادم میں دو ہلاک

سعودی عرب میں نوے لاکھ کےقریب غیر ملکی کارکن موجود ہیں
،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں نوے لاکھ کےقریب غیر ملکی کارکن موجود ہیں

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایک علاقے میں غیر ملکی کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گیے ہیں۔

پولیس کے ایک بیان کے مطابق منفوحہ کے علاقے میں سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

گذشتہ اتوار کو ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی کارکن، جن میں اکثریت شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی، ریاض میں جمع ہوئے تھے تاکہ وہ اپنے ملکوں کو واپس جا سکیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص کی سعودی شہری کے طور پر شناخت کرلی گئی ہے جبکہ دوسرے شخص کو شناخت نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس واقعے میں 70 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

گذشتہ ہفتے پولیس نے غیر ملکی کارکنوں کو دی جانے والی مہلت کے ختم ہونے پر سینکڑوں غیر ملکی کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔

دریں اثنا ایتھیوپیا کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق تین ایتھیوپیائی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک شخص گذشتہ منگل کو، جبکہ دو تشدد کے تازہ واقعے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عدیس ابابا نے ریاض سے اس سلسلے میں باقاعدہ شکایت کی ہے۔

ایتھیوپیا کے وزیر خارجہ نے کہا: ’یہ ناقابل برداشت ہے۔ ہم سعودی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پوری سنجیدگی سے تمام واقعے کی تحقیقات کرائے۔ ہم اپنے شہریوں کو واپس لینے پر تیار ہیں لیکن جبکہ تک وہ سعودی عرب میں ہیں ان کی عزت اور احترام کا خیال رکھا جانا چاہیے۔‘

سعودی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں اس وقت مداخلت کرنے پڑی جبکہ منفوحہ کے علاقے میں غیر ملکی کارکنوں نے احتجاج شروع کر دیا اور مقامی شہریوں پر حملہ کر دیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اتوار کو پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور نیشنل گارڈ اور سپیشل فورسز کے دستوں کو علاقے میں بھیجا گیا۔

ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی کارکنوں نے پہلے ہی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

ان غیر ملکیوں کو بسوں کے ذریعے ریاض کے ہوائی اڈے کے قریب عارضی قیام گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق گذشتہ تین ماہ میں دس لاکھ سے زیادہ غیر ملکی سعودی عرب چھوڑ کر اپنے ملکوں کو واپس چلے گئے ہیں۔ ان میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال، یمن اور مشرقی بعید کے ملکوں سے تعلق رکھنے افراد شامل ہیں۔

گذشتہ دس دنوں میں 30 ہزار سے زیادہ یمنی کارکن زمین سے راستے سرحد عبور کر کے یمن لوٹ گئے ہیں۔

40 لاکھ کے قریب غیر ملکی کارکنوں نے اتوار کی مہلت ختم ہونے سے قبل سعودی عرب میں کام کرنے کی اجازت حاصل کر لی تھی۔

سعودی عرب میں بے روز گاری کی شرح 12 فیصد ہے جبکہ یہاں 90 لاکھ کے قریب غیر ملکی کارکن موجود ہیں جن کی اکثریت مزدوری، تعمیراتی اور دفتری نوعیت کے کام کرتی ہے۔