القاعدہ کا شام کے شدت پسندگروہ سے لاتعلقی کا اعلان

شدت پسند تنظیم القاعدہ کا کہنا ہے کہ اس کا ’الدولت اسلامیہ فی عراق و الشام‘ (آئی ایس آئی ایس) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
القاعدہ کے جنرل کمانڈ کی جانب سے آن لائن شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی ایس اس کی شاخ نہیں ہے۔
خیال رہے کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے گذشتہ مئی میں عراق کے ایک گروپ کی شام میں قائم النصرہ فرنٹ میں مدغم ہونے کی کوشش کو مسترد کر دیا تھا۔
اس کے بعد سے آئی ایس آئی ایس کو دیگر باغیوں اور حزب مخالف کے حامیوں پر حملے کرنے کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آئی ایس آئی ایس کے غیر ملکی جنگجوؤں، اسلامی اور مغرب کے حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کم سے کم 2,300 افراد مارے جا چکے ہیں۔
شام کے شمالی شہر حلب میں اتوار کو آئی ایس آئی ایس کے ایک خود کش حملے میں کم سے کم 16 اسلامی باغی مارے گئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بعض اطلاعات کے مطابق سنیچر کو حلب میں دو خود کش دھماکوں میں توحید بریگیڈ کے سینئیر فوجی کمانڈروں سمیت 26 افراد مارے گئے اس کا الزام بھی آئی ایس آئی ایس پر عائد کیا گیا۔
خیال رہے کہ آئی ایس آئی ایس کے جنگجوؤں نے گذشتہ ماہ عراقی شہر فلوجہ کا کنٹرول سنھبال لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی ایس آئی ایس عراق کی سابق اسلامی ریاست (آئی ایس آئی ایس) کی ذیلی تنظیم ہے اور اس کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس نے سنہ 2011 کے وسط میں النصرہ فرنٹ قائم کرنے میں مدد فراہم کی۔
اپریل سنہ 2013 میں آئی ایس آئی کے رہنما ابو بکر البغداری نے اپنے گروپ اور النصرہ کے مدغم ہونے کا اعلان کیا اور اس کا نام ’الدولت اسلامیہ فی عراق و الشام‘ (آئی ایس آئی ایس) رکھا۔
تاہم النصرہ گروپ کے رہنما ابو محمد الجولانی اور ایمن الظواہری نے اس اعلان کو مسترد کر دیا۔
اس کے بعد سے آئی ایس آئی ایس اور النصرہ الگ الگ حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔
القاعدہ کے جنرل کمانڈ کی جانب سے اتوار کو جہادی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں آئی ایس آئی ایس سے فاصلہ رکھنے کا کہا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ القاعدہ کا آئی ایس آئی ایس نامی گروپ سے کوئی تعلق نہیں اور اس گروپ کو قائم کرتے وقت القاعدہ کو نہ اطلاع دی گئی تھی اور نہ ہی اس سے مشورہ کیا گیا تھا۔
بیان کے مطابق آئی ایس آئی ایس کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں اور القاعدہ اس کے کسی عمل کی ذمہ دار نہیں ہے۔







