صوبہ انبار کے سٹریٹیجک شہر فلوجہ پر القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کا کنٹرول
،تصویر کا کیپشنعراق کے صوبہ انبار میں ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت کے کنٹرول سے سٹریٹیجک شہر فلوجہ نکل کر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے کنٹرول میں چلا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنذرائع کے مطابق شہر کا جنوبی حصہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے کنٹرول میں ہے جبکہ ایک عراقی صحافی کا کہنا ہے کہ سُنی قبائلی لوگوں کا کنٹرول باقی کے شہر پر ہو گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنشہر فلوجہ میں تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب پیر کو رمادی میں عراقی فوج نے سُنی عربوں کے ایک مظاہرے کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
،تصویر کا کیپشناس واقعے کے بعد ایک طرف تو سکیورٹی فورسز اور القاعدہ سے منسلک عراق اور لیونٹ میں اسلامک امارات (آئی ایس آئی ایس) کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور دوسری جانب سُنی قبائل اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں کا آغاز ہو گیا۔
،تصویر کا کیپشنعینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ہفتے کی شام کو فلوجہ کو سڑکوں پر طیارہ شکن گن نصب پک اپس پر جنگجو کھلے عام پھر رہے تھے۔
،تصویر کا کیپشنمنگل کو وزیر اعظم نے انبار کا کنٹرول فوج سے لے کر پولیس کو دینے کا اعلان کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنتاہم جیسے ہی فوج کا انخلا ہوا القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں نے فلوجہ، رمادی اور طرمیہ میں پولیس سٹیشنوں پر دھاوا بول دیا اور قیدی رہا کروانے کے علاوہ اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا۔
،تصویر کا کیپشناس واقعے کے بعد وزیر اعظم نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور فوج کو دوبارہ انبار بھیجنے حکم دیا۔
،تصویر کا کیپشنجمعرات کو القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں نے انبار میں عمارتوں پر کالے جھنڈے لہرا دیے۔
،تصویر کا کیپشنجنگجوؤں نے مسجدوں سے عوام کو ان کی جدوجہد میں شامل ہونے کے اعلان کیے۔