اخضر ابراہیمی فریقین سے علیحدہ علیحدہ ملیں گے

ابھی یہ واضح نہیں کہ کیا جمعے کے روز دونوں فریقین آمنے سامنے مذاکرات میں شرکت کریں گے یا نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنابھی یہ واضح نہیں کہ کیا جمعے کے روز دونوں فریقین آمنے سامنے مذاکرات میں شرکت کریں گے یا نہیں

شام کے معاملے پر ہونے والے امن مذاکرات کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی فریقین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر کے اس بات کا اندازہ لگائیں گے کہ دونوں فریق کس حد تک مشترکہ مذاکرات کرنے کے لیے رضا مند ہیں۔

اخضر ابراہیمی ایک ایسے وقت یہ اقدام کر رہے ہیں جبکہ شام کے تنازعے پر سوئٹزرلینڈ میں امن کانفرنس کا پہلا روز صدر بشار الاسد کے مستقبل کے حوالے سے تلخ اختلافات کے ساتھ ختم ہو گیا۔

امید کی جا رہی ہے کہ جمعے کے روز مشترکہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ کیا جمعے کے روز دونوں فریق آمنے سامنے مذاکرات میں شرکت کریں گے یا نہیں، تاہم اقوام متحدہ کا ابتدائی منصوبہ یہی تھا۔

سفارتی امور کے لیے بی بی سی کی نامہ نگار بریجٹ کنڈل کا کہنا ہے کہ اگرچہ بدھ کے روز دونوں جانب سے شدید ردِعمل تو سامنے آیا ہے، لیکن کم از کم کوئی فریق مذاکرات کی میز چھوڑ کر نہیں گیا۔

شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک تخمینے کے مطابق 20 لاکھ شامی ملک چھوڑنے پر مجبور، جب کہ 65 لاکھ سے زائد ملک کے اندر بےگھر ہو گئے ہیں۔

بدھ کے روز ہونے والے مذاکرات

امریکہ کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی تک شام کو نہیں بچایا جا سکتا۔

دوسری جانب شامی اہل کار اس بات پر مصر ہیں کہ صدر بشار الاسد اقتدار سے الگ نہیں ہوں گے۔

امن کانفرنس کا پہلا دن جنیوا کے نزدیک مونٹرو کے مقام پر ہوا۔

امن کانفرنس کے پہلے دن کے اختتام پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے شام میں امن قائم کرنے پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا ’بس بہت ہو گیا، شام کے تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کا وقت آ گیا ہے۔‘

بان کی مون کے مطابق ’اصل کام جمعے کو شروع ہو گا، ہمارے سامنے راستہ مشکل ہے لیکن اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اور اسے ہر حالت میں حل کیا جانا چاہیے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں کسی فوری کامیابی کی امید نہیں ہے۔

اس موقع پر شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اخضر براہیمی نے کہا کہ وہ جمعرات کو شامی حکومت اور حزبِ مخالف کے وفود سے الگ الگ بات کریں گے اور انھیں امید ہے کہ فریقین جمعے کو ایک کمرے میں ملاقات کریں گے۔

مونٹرو میں موجود بی سی سی کے نامہ نگار پال وڈ کا کہنا ہے کہ مذاکرات جب بند دروازوں تک پہنچ جائیں تو اس بات کی امید کی جا سکتی ہے کہ وہاں مزید تعمیری بات ہو گی۔

اس سے قبل شام کے تنازعے پر سوئٹزرلینڈ میں امن کانفرنس شروع ہونے پر شامی اہل کاروں اور حزب مخالف کے درمیان تلخ الزامات کا تبادلہ ہوا۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ صدر بشارالاسد کے اقتدار میں رہتے ہوئے ’کوئی راستہ نکلنا‘ مشکل ہے۔

شام کے تنازعے پر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات اب جمعے کو جنیوا میں ہوں گے۔