بان کی مون کی ایران کو جنیوا مذاکرات میں شرکت کی دعوت

،تصویر کا ذریعہAFP
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایران کو دعوت دی ہے کہ وہ شام کے تنازعے پر اس ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے۔
بان کی مون نے کہا کہ انھیں ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ایران شام میں عبوری حکومت کے قیام میں مثبت کردار ادا کرے گا۔
ان مذاکرات کو جنیوا ٹو کا نام دیا گیا ہے اور یہ جنیوا کے قریب مونٹرو نامی قصبے میں بدھ سے شروع ہو رہے ہیں۔
اس سے قبل شامی حزبِ اختلاف کے دھڑوں کے اتحاد نے رائے شماری کے ذریعے مذاکرات میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک تخمینے کے مطابق 20 لاکھ شامی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جب کہ 65 لاکھ سے زائد ملک کے اندر بےگھر ہو گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی تحفظات

،تصویر کا ذریعہAFP
اتوار کو بان کی مون نے کہا کہ ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ایران کو ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی تو ایران ’مثبت اور تعمیری‘ کردار ادا کرے گا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ایران کو شامی تنازعے کے کسی بھی حل میں شامل کرنا پڑے گا۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد ایران نے کہا کہ اس نے یہ دعوت قبول کر لی ہے۔ ایران نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ بغیر کسی پیشگی شرائط کے مذاکرات میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا شام کے صدر بشار الاسد کے قریبی حلیف ایران کو مذاکرات میں حصہ لینا چاہیے یا نہیں۔
اقوامِ متحدہ اور روس شام میں ایران کے کردار کے حامی ہیں، لیکن امریکہ کو اس پر تحفظات ہیں، کیونکہ ایران نے 2012 کے جنیوا مراسلے کی توثیق نہیں کی جس میں شام کے عبوری سیاسی عمل کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
امریکہ کو ایران کی جانب سے شام میں فوجی بھیجنے پر اور اس کی لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ کی حمایت پر بھی تشویش ہے۔ حزب اللہ نے شام کی سرکاری فوج کا ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے اپنے جنگجو بھیجے تھے۔







