یہودی بستیوں کی مخالفت پر اسرائیل کی یورپی یونین پر تنقید

 اسرائیل نے گذشتہ ہفتے غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں 1400 مکانوں پر مشتمل نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن اسرائیل نے گذشتہ ہفتے غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں 1400 مکانوں پر مشتمل نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا

اسرائیل نے برطانیہ، فرانس، اٹلی اور سپین پر فلسطین کا حامی ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے سفارت کاروں کو طلب کر لیا ہے۔

اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان سفارت کاروں سے کہا جائے گا کہ ان کے ممالک کا یک طرفہ مؤقف ناقابلِ قبول ہے۔

جمعرات کو یورپی یونین کے چار ممالک نے اسرائیلی سفارت کاروں کو طلب کر کے کہا کہ وہ غربِ اردن میں نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کے منصوبے کی مخالفت کریں۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن نے بھی ان یہودی بستیوں کی تعمیر کو امن کے لیے رکاوٹ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ اعظم بین یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ منافقت کو ختم کر دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین نے ہمارے سفارت کاروں کو صرف چند مکانوں کی تعمیر کرنے پر طلب کیا۔

اسرائیلی حکومت نے الزام عائد کیا کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے سرکاری میڈیا میں اسرائیل اور یہودی افراد کے خلاف شر انگیز زبان استعمال بند کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھاتی۔

بین یامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف عدمِ توازن اور تعصب امن کو آگے بڑھانے کے لیے درست نہیں ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ ہفتے غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں 1400 مکانوں پر مشتمل نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ اقدام گذشتہ ماہ 26 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بعد متوقع تھا تاہم اسے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہِ مشرقِ وسطیٰ کے بعد تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر سنہ 1967 سے اسرائیلی قصبے کے بعد 100 سے زیادہ یہودی بستیاں تعمیر کی جا چکی ہیں جن میں پانچ لاکھ سے زیادہ یہودی رہتے ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ بستیاں غیر قانونی ہیں تاہم اسرائیل اس بات سے انکار کرتا ہے۔