غزہ پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری

غزہ میں اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے دو مقامات پر حملے کیے ہیں جن میں ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ایک بچی ہلاک ہو گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کے علاقے میں حماس تنظیم کے دو تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا۔
روئٹرز نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کی طرف سے غزہ پر حملے سے قبل ایک فلسطینی نشانچی نے سرحد کے دوسری طرف ایک اسرائیلی شہری کو ہلاک کر دیا تھا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیلی شہری سرحدی باڑ کے قریب کام کر رہا تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس نوعیت کا واقعہ غزہ میں ایک سال بعد رونما ہوا ہے۔
غزہ میں حکمران تنظیم حماس کے اہل کاروں کا کہنا ہے اسرائیلی طیاروں نے خان یونس اور البروجی میں تنظیم کی تربیت گاہوں کو نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے مشرقی علاقے پر بمباری کی۔
غزہ میں طبی حکام نے بتایا کہ تین سالہ بچی کی ہلاکت بم کا ٹکڑا لگنے سے ہوئی۔ یہ بچی اپنے گھر والوں کے ساتھ گھر کے باہر کھڑی تھی جب اسے بم کا ٹکڑا آ لگا۔
حماس نے ایک بیان میں اسرائیل کے حملے کو بزدلانہ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اس کے فضائی طیاروں کے علاوہ ٹینکوں اور پیدل فوج نے بھی حصہ لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ جن جگہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ ہتھیار بنانے کی تنصیبات تھیں۔ شام ڈھلے اسرائیل کی طرف سے حملے بند ہو گئے۔
قبل ازیں ایک فلسطینی ایک اور واقعے میں شمالی غزہ کے علاقے میں ہلاک ہو گیا تھا۔
اسرائیلی فوج ترجمان کےمطابق جب اسرائیلی فوج نے اسے گولی مار کر ہلاک کیا اس وقت وہ دھماکہ خیز مواد نصب کر رہا تھا۔







