اسرائیل: غزہ سے كيبوتس تک کی سرنگ دریافت کی گئی ہے

اسرائیلی کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی سے اسرائیل تک کی ایک اعشاریہ سات کلومیٹر لمبی ایک سرنگ دریافت کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ سرنگ غزہ کی پٹی میں ایک مکان سے شروع ہوتی ہے اور اسرائیل کے علاقے كيبوتس تک جاتی ہے۔
اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ اس سرنگ کو اسرائیل میں حملوں کے لیے استعمال کی گئی ہے۔
اسرائیل نے اس سرنگ کی دریافت کے بعد غزہ کو تمام تعمیراتی سامان کی ترسیل روک دی ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے ماہ ہی اسرائیل نے نجی تعمیر کے لیے تعمیراتی سامان کی ترسیل پر سے پابندی اٹھائی تھی۔
دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل اس سرنگ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
حماس کے ترجمان سمیع ابو زہری کا کہنا ہے ’سرنگ کی دریافت کے بہانے اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی اور غزہ کے خلاف جاری جارحیت کو جائز قرار دے رہا ہے۔‘
حماس کے عسکری ونگ قاسم بریگیڈ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ میں کہا ہے ’وہ لوگ جو ایک سرنگ کھود سکتے ہیں وہ درجنوں اور بھی کھود سکتے ہیں۔‘
اس سرنگ کو پچھلے ہفتے اس وقت دریافت کیا گیا تھا جب كيبوتس کے رہائشیوں نے سرحدی علاقے سے عجیب سی آوازوں کی شکایت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ سرنگ غزہ کے علاقے خان یونس سے باڑ کے نیچے سے کیبوتس کے علاقے عین ہاشلوشا تک گئی ہوئی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سرنگ پچاس سے ساٹھ فٹ گہری ہے اور اس کو کھودنے کے لیے کم از کم ایک ماہ لگا ہو گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی غزہ سے سرنگوں کی مدد سے اسرائیل پر حملے کیے گئے ہیں۔ سنہ 2006 میں ولسطینی جنگجوؤں نے اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کو پکڑا تھا اور اس کو غزہ میں پانچ سال تک قید رکھا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے فوک کو سرنگ کی دریافت پر خراج تحسین پیش کیا۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ کئی دہائیوں میں پرتشدد کارروائیوں کے حوالے سے خاموش سال جنگجوؤں کی حالیہ کارروائیوں کے باعث متاثر ہوا ہے۔







