برطانوی ڈاکٹر کی میت کی شام سے وطن واپسی

شام کی ایک جیل میں ہلاک ہونے والے پاکستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر عباس خان کی میت اتوار کو واپس برطانیہ پہنچ رہی ہے۔
عالمی ریڈکراس نے ان کی میت شام سے لبنان کے دارالحکومت بیروت منتقل کر دی تھی جہاں سنیچر کو عباس کی والدہ نے فاطمہ خان اسے وصول کیا۔
فاطمہ خان نے مردہ خانے سے نکلتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے میرا بچہ مار دیا ہے۔‘
32 سالہ ڈاکٹر عباس خان کے بارے میں شامی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے خود کشی کی ہے جبکہ ان کے خاندان والے اس موقف کو مسترد کرتے ہیں۔
عباس کے اہلِ خانہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے عباس کی ہلاکت کے بارے میں تفتیش کا انتظام کیا ہے۔
میٹروپولیٹن پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پولیس کی انسدادِ دہشتگردی کمان عباس کے گھر والوں کی مدد کر رہی ہے اور موزوں موقعے پر ان کی ہلاکت کی تفتیش میں بھی مدد کی جائے گی۔
گذشتہ نومبر میں جنوبی لندن سے تعلق رکھنے والے عباس خان کو شام میں داخل ہونے کے 48 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔وہ ویزے کے بغیر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہوئے تھے۔
عباس خان لندن کے ایک ہسپتال میں اورتھوپیڈِک سرجن تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ ترکی میں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں کام کرتے رہے تھے اور ان پناہ گزینوں کے مسائل سے بہت پریشان تھے۔
منگل کے روز برطانوی دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ حقیقی طور پر عباس خان کو شامی حکام نے قتل کیا تھا۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کی والدہ نے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ شامی حکومت ایک دہشتگرد اور انسانی ہمدردی کے کارکن کے درمیان تفریق نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ’اس کا پیشہ تو زندگی دینا تھا۔ وہ تو ایک چیونٹی کو بھی نہیں مار سکتا تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا بیٹا صرف خواتین اور بچوں کا علاج کر رہا تھا۔
گذشتہ نومبر میں عباس خان کو شامی حکومت نے گرفتار کیا تھا تو ان کی والدہ ان کی رہائی کے لیے کوشاں رہیں اور اس کے لیے انہوں نے برطانوی اور شامی حکومت سے رابطے کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دمشق میں شام کے سفارتخانے اور روسی سفارتخانے کو بھی مدد کے لیے کہا تھا۔
شامی حکام نے اعلان کیا تھا کہ عباس خان کو ایک ہفتے میں رہا کر دیا جائے گا مگر پیر کے روز وہ ہلاک ہوگئے۔ شامی حکومت کا موقف ہے کہ انہوں نے خودکشی کی ہے۔







