امریکہ کی مزید پابندیاں،ایران کا مذاکرات سے انکار

امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیوں کے باوجود کاروبار کرنے پر مزید کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کرنے کے ردِ عمل میں ایران نے جوہری معاہدے کے عملدرآمد پر ہونے والے مزید مذاکرات میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ ان کو امید ہے کہ عالمی طاقتوں اور تہران کے درمیان ہونے والے ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے حوالے سے تکنیکی معاملات پر بات چیت آئندہ چند روز میں شروع ہو جائیں گے۔
ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مزید کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں لگائی جانا 24 نومبر کو ہونے والے عبوری معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔
جنیوا میں ہونے والے معاہدے کے مطابق ایران پر پابندیاں نرم کرنے کے بدلے میں ایران نے اگلے چھ ماہ کے لیے چند جوہری کارروائیاں روکنے کی حامی بھری تھی۔
اس معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی آئی اے ای اے کے نمائندوں نے آٹھ دسمبر کو ایرانی جوہری پلانٹ کا دورہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ ایرانی وفد نے ویانا میں عالمی طاقتوں یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے نمائندوں سے تکنیکی معاملات کو حل کرنے کے حوالے ملنا تھا۔
تاہم جمعہ کو امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ ایک درجن سے زیادہ کمپنیوں اور افراد پر پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کے حوالے سے پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔
ایران کے سینیئر سفارتکار عباس عراقچی نے ایرانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ دوہرے معیار ہیں۔ یہ بات اس بات چیت کا حصہ نہیں تھی جو جنیوا میں ہوئی اور ایسا قدم جنیوا میں ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب روس نے بھی امریکہ کے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔
روس کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئیٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ’امریکہ کی جانب سے مزید کمپنیوں اور افراد کو بلیک لسٹ کرنے سے جنیوا معاہدے کی عملدرآمد میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔‘
تاہم امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ تکنیکی مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ’میرے خیال میں ہم مذاکرات کے اس مرحلے میں ہیں جہاں ایرانی وفد کو اپنے حکام بالا سے مشورہ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔‘
یاد رہے کہ چوبیس نومبر کو ہونے والے معاہدے کے تحت مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔
- پانچ فیصد سے زیادہ یورینیم کی افزودگی روک دی جائے گی
- 20 فیصد افزودہ یورینیم کے تمام ذخیرے کو ایسی شکل میں تبدیل کیا جائے گا جو مزید افزوردگی کے لیے موزوں نہ ہوں۔ یہ 20 فیصد افزودہ یورینیم وہی مواد ہے جسے ایران ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔مزید سنٹری فیوجز نہیں لگائے جائیں گے اور موجودہ سنٹری فیوجز کی کثیر تعداد کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔
- چھ مہینوں تک ایران کی 3.5 فیصد افزودہ یورینیم کی مقدار برقرار رہے گی اور اس سے زیادہ مقدار کو آکسائڈ کی شکل میں تبدیل کرنا پڑے گا۔آرک کے ایٹمی ری ایکٹر میں مزید کسی قسم کا تعمیراتی یا تجرباتی کام نہیں ہوگا کیونکہ مغربی ممالک کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایران اس کو جوہری بم بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
اس کے بدلے ایران پر لگائی گئی اقتصادی پابندیاں نرم کر دی جائیں گی جسے امریکہ نے ’محدود، عارضی اور قابلِ واپسی معاشی اقدامات‘ قرار دیا ہے۔
- ابتدائی طور پر اگر ایران اس معاہدے کی پابندی کرتا ہے تو اس کے خلاف آئندہ چھ مہینوں میں نئی اقتصادی پابندیاں نہیں عائد کی جائیں گی۔
- ایران کے سونے، قیمتی دھاتوں، گاڑیوں کی صنعت اور پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر سے بعض پابندیاں ہٹا دی جائیں گی جس سے ایران کو تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر آمدن ہوگی۔
- ایران کے سویلین استعمال کے جہازوں کے حفاظتی اقدامات کے لیے مرمت اور اس کے معائنوں کی اجازت دی جائے گی۔
- ایران کو اس کے تیل کی فروخت کی مد میں تقریباً 4.2 ارب امریکی ڈالر متنقل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
- ایران کے تقریباً 40 کروڑ امریکی ڈالر کی رقم دوسرے ممالک میں تعلیمی اداروں کو منتقل کرنے کی اجازت دی جائے گی تاکہ ایرانی طلبا وہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنی فیس ادا کر سکیں۔
.







