ایران سے معاہدہ: اوباما کی سعودی شاہ سے بات چیت

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ صرف اسرائیل بلکہ مشرق وسطیٰ کو مزید محفوظ خطہ بنائے گا
،تصویر کا کیپشنامریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ صرف اسرائیل بلکہ مشرق وسطیٰ کو مزید محفوظ خطہ بنائے گا

امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیراعظم کے بعد اب سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کو بھی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ہونے والے عبوری معاہدے کے حوالے سے اعتماد میں لیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بدھ کو دونوں رہنماؤں کے درمیان امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک جامع حل کی تلاش کی کوششوں، پر باقاعدگی سے صلاح مشورہ کرنے پر اتفاق ہوا۔

جنیوا میں اتوار کو ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین چھ ماہ کا ایک عبوری معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ایران نے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنی کچھ جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے اور معائنہ کاروں کو اپنی جوہری نصیبات تک رسائی پر اتفاق کیا ہے۔

ایران کا موقف ہے اس کا جوہری پروگرام ہتھیار بنانے کے لیے نہیں بلکہ پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اور سعودی شاہ کے درمیان ایران کی جانب سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کی اہمیت زیرِ بحث آئی اور دونوں ممالک ان کوششوں کے سلسلے میں باقاعدگی سے بات چیت کرتے رہیں گے۔

سعودی عرب نے ابتدائی طور پر محتاط انداز میں عبوری جوہری معاہدے کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر نیت ٹھیک ہے تو یہ مسئلے کے حل کی جانب پہلا قدم ہے۔

امریکی صدر اوباما نے اسرائیل کوامریکہ کی دوستی کا ایک بار پھر یہ یقین دلایا۔
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر اوباما نے اسرائیل کوامریکہ کی دوستی کا ایک بار پھر یہ یقین دلایا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر نے اتوار کی شب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی جس میں براک اوباما نے انھیں بتایا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ فوری مشاورت شروع کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایرانی جوہری عزائم کا جامع اور پائیدار حل تلاش کیا جاسکے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ عبوری جوہری معاہدے کو ایک تاریخی غلطی قرار دیا تھا جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف اسرائیل بلکہ مشرق وسطیٰ کو مزید محفوظ خطہ بنائے گا۔

بنیامن نتن یاہو نے اپنے ردِ عمل میں کہا تھا کہ ’دنیا کی سب سے خطرناک قوم دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیار کے حصول کی جانب اہم قدم اٹھانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔‘ اور یہ کہ اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں اور وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان عبوری معاہدے کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔

  • ایران پانچ فیصد سے زیادہ یورینیئم کی افزودگی نہیں کرے گا اور اس سے زائد افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو ’غیر موثر‘ کرے گا۔
  • ایران معائنہ کاروں کو اپنی جوہری پروگرام تک زیادہ رسائی دے گا جس میں نطنز اور فوردو کے جوہری تنصیبات تک روزانہ کی بنیاد پر رسائی شامل ہے۔
  • ایران اراک کے جوہری پلانٹ میں مزید تعمیراتی اور تجرباتی کام نہیں کرے گا۔
  • ابتدائی طور پر اگر ایران اس معاہدے کی پابندی کرتا ہے تو اس کے خلاف آئندہ چھ مہینوں میں نئی اقتصادی پابندیاں نہیں عائد کی جائیں گی۔
  • ایران کے سونے، قیمتی دھاتوں، گاڑیوں کی صنعت اور پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر سے بعض پابندیاں ہٹا دی جائیں گی جس سے ایران کو تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر آمدن ہوگی۔
  • ایران کے سویلین استعمال کے جہازوں کے حفاظتی اقدامات کے لیے مرمت اور اس کے معائنوں کی اجازت دی جائے گی۔
  • ایران کو اس کے تیل کی فروخت کی مد میں تقریباً 4.2 ارب امریکی ڈالر منتقل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
  • ایران کے تقریباً 40 کروڑ امریکی ڈالر کی رقم دوسرے ممالک میں تعلیمی اداروں کو منتقل کرنے کی اجازت دی جائے گی تاکہ ایرانی طلبہ وہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے فیس ادا کر سکیں۔