پاکستان اور افغانستان کا ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں میں ’عارضی وقفے‘ کا اعلان

منشیات بحالی مرکز، کابل، فضائی حملہ، پاکستان، افغانستان، کابل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکابل میں منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملے کے بعد اجتماعی نمازِ جنازہ کا منظر
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان اور افغانستان نے عید الفطر کی آمد سے قبل ایک دوسرے کے خلاف جاری آپریشنز میں ’عارضی وقفے‘ کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کو پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ آپریشن میں وقفے کا فیصلہ عید الفطر کی مناسبت سے سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر کیا گیا ہے اور یہ 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب سے 23 اور 24 مارچ کی درمیانی شب تک نافذ العمل ہوگا۔

تاہم عطا اللہ تارڑ نے خبردار کیا کہ سرحد پار سے کسی حملے یا دہشتگردی کے واقعے کی صورت میں ’فوراً‘ دوبارہ یہ آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔

دوسری طرف افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں عارضی وقفے کا اعلان کیا ہے۔

ایکس پر پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ 'آپریشن رد الظلم' میں عارضی وقفے کا فیصلہ عید الفطر کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اس حوالے سے سعودی عرب، ترکی اور قطر کی طرف سے درخواستیں کی گئی تھیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت دوست ممالک کی کوششوں کو سراہتی ہے مگر افغانستان کی قومی سلامتی اور دفاع ایک قومی اور مذہبی فریضہ ہے۔ 'خطرے کی صورت میں امارتِ اسلامی جواب دے گی۔'

اس سے قبل طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسلام آباد کو کابل میں نشے کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر مبینہ فضائی حملے کے بدلے میں ’سخت ردِعمل‘ کی دھمکی دی ہے۔

منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملہ: پاکستانی فوج اور افغان طالبان کیا کہتے ہیں؟

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ سوموار کی شام کابل میں ایک ملٹری کیمپ میں موجود ہتھیاروں اور ڈرونز کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا اور وہاں موجود گولہ بارود کے پھٹنے کی وجہ سے دھماکے ہوئے ہیں۔

بدھ کے روز نشر ہونے والے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹالک میں جب میزبان نے ان سے کابل میں ہونے والے حالیہ حملے اور افغان طالبان کی جانب سے اس میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت کے دعوے کے متعلق ہوچھا تو ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کابل میں ایک ملٹری کیمپ ہے، جہاں ہتھیار اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے ڈپو بھی موجود ہیں۔ ’ہم نے ان کو ٹارگٹ کیا، اس کی کلپ ابھی بھی موجود ہے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جب بھی ہتھیاروں کے ذخیرے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس سے مزید دھماکے ہوتے ہیں۔

’جب وہ گولہ بارود پھٹا تو پورے کابل میں لوگوں نے دیکھا اور وہ شعلے کافی دیر تک جلتے رہے۔‘

آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
،تصویر کا کیپشنڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ اس ڈپو میں گولہ بارود اور ڈرونز کے علاوہ روسی دور کے سکڈ میزائل بھی ذخیرہ کیے گئے تھے۔

انھوں نے سوال کیا کہ کوئی افغان طالبان سے پوچھے کہ انھوں نے ہتھیاروں کے ڈپو کے بیچ میں منشیات بحالی مرکز کیوں بنایا ہوا تھا؟

افغان وزارتِ صحت کے ترجمان شرافت زمان امرخیل پہلے ہی اس دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس مرکز کے قریب کسی قسم کی عسکری تنصیبات نہیں ہیں۔

طالبان حکومت کا دعویٰ ہے کہ بحالی مرکز پر پاکستانی حملے میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ طالبان حکام کے مطابق اس مرکز میں تقریباً دو ہزار افراد زیرِ علاج تھے۔

اقوامِ متحدہ کے افغانستان میں اسسٹنس مشن کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس حملے میں کم از کم 143 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بدھ کو کابل میں مرنے والوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے بھی شرکت کی۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

اقوام متحدہ نے پیر کی شب منشیات بحالی مرکز پر حملے کی فوری، آزاد اور شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جانا ضروری ہے۔

دوسری جانب کابل میں کچھ ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے بعد طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر متقی نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب افغانستان چین کی ثالثی میں مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کر رہا تھا۔

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان حالیہ کشیدگی

افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی گذشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے۔ لیکن یہ کشیدگی باقاعدہ جنگ میں اس وقت بدلی جب گذشتہ مہینے اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے سبب دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) ملک میں حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہی ہے اور اسے افغان طالبان کی پشت پناہی حاصل ہے۔

افغان طالبان پاکستان کے اس دعوے کی تردید کرتے رہے ہیں۔

تاہم فروری میں امام بارگاہ پر ہونے والے حملے اور شدت پسندوں کی دیگر کارروائیوں کے بعد پاکستان نے 27 فروری کو افغانستان میں 22 عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

 TOPSHOT - Sirajuddin Haqqani (C), Interior Minister of Afghanistan's Taliban government arrives to attend a mass funeral held for victims of a Pakistani air strike on a drug rehabilitation centre, at the Badam Bagh Hilltop in Kabul on March 18, 2026. The Taliban authorities have said that around 400 people were killed and more than 200 wounded on March 16 night, in the deadliest attack yet in the recent upsurge in violence between the two neighbours. (Photo by Wakil KOHSAR / AFP via Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنطالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کابل میں منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملے کے بعد اجتماعی نمازِ جنازہ میں شرکت کی
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستانی فوج کے ترجمان نے اسی دن افغان طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں اپنے 12 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

گذشتہ تقریباً تین ہفتوں میں فریقین ایک دوسرے کا بھاری جانی و مالی نقصان کرنے کے مسلسل دعوے کرتے آئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے 'آئی ایس پی آر' کے مطابق 13 مارچ کو افغان طالبان نے چند ڈرونز کے ذریعے راولپنڈی، کوہاٹ اور کوئٹہ میں حملہ کیا، جو اپنے مطلوبہ اہداف تک نہیں پہنچے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان ڈرونز کو 'سافٹ اور ہارڈ کِل' ٹیکنالوجی کے ذریعے روکا گیا۔ تام ان ڈرونز کے ملبے کے نتیجے میں کوئٹہ میں دو بچے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک، ایک شہری زخمی ہوا۔

وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے 15 مارچ کو ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں کی گئی اب تک کی کارروائیوں میں افغان طالبان کے 684 اہلکار ہلاک اور 912 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کی 252 چوکیاں تباہ کی ہیں اور 44 پر قبضہ کر لیا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات کے مطابق ان کی فوج نے 73 مقامات پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

افغانستان کی جانب سے بھی ایسے دعوے تواتر سے سامنے آئے ہیں اور طالبان حکام کی جانب سے پاکستان کے متعدد مقامات پر ڈرون حملے کرنے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ برس بھی سرحدی جھڑپیں ہوئی تھی، جس کے بعد فریقین نے اکتوبر میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا مگر جھڑپوں کا سلسلہ پھر بھی جاری رہا تھا۔