امریکہ نے شامی باغیوں کی غیر مہلک امداد معطل کر دی

امریکہ اور برطانیہ نے شام کے شمالی علاقوں میں حکومت کے مخالف گروہوں کی تمام ’غیر مہلک امداد‘معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں امریکہ کے سفارت خانے کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اسلام پسند باغیوں کی جانب سے مغرب کی حمایت یافتہ فری سیریئن آرمی کے اڈوں پر قبضے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
گذشتہ ہفتے اسلامک فرنٹ کے نام سے ایک نئی تنظیم بنائی گئی تھی جس میں تقریباً تمام بڑے باغی گروپ شامل ہیں اور اس نئے گروپ نے ترکی کی سرحد کے قریب بابل الحوا میں اڈوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
اس گروپ میں سات بڑے باغی گروپ شامل ہیں اور اس کے جنگجوؤں کی تعداد 45000 ہزار کے قریب ہے اور اس گروپ نے صدر بشار الاسد کی حکومت ختم کر کے اسلامی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس گروپ میں القاعدہ سے منسلک گروپ جیسا کہ اسلامک امارات اور النصرہ جیسے گروپ شامل نہیں ہیں۔
توقع ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے انسانی ضروریات سے متعلق امداد متاثر نہیں ہوگئی اور امریکہ سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق یہ امداد غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیموں کی مدد سے تقسیم کی جائے گی۔
امریکی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ شام کے قومی اتحاد، مقامی حزب مخالف کی کونسلز اور ایس ایم سی کو 25 کروڑ ڈالر کی غیر مہلک امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس امداد میں باغی گروپوں کے لیے خوراک، ادویات، مواصلات کے آلات اور گاڑیاں شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بابل الحوا کی صورتحال اور ایس ایم سی کی جانب سے امریکی آلات اور سپلائز سے متعلق فراہم کی جانے والی معلومات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
جبکہ برطانیہ کے دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ تحقیقات کی وجہ سے غیر مہلک امداد بند کرنے کا فیصلہ عارضی ہے۔
برطانیہ نے دو کروڑ پاؤنڈ کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس میں فور بائی فور گاڑیاں، گولیوں سے محفوظ رکھنے والی جیکٹس، جنریٹرز، مواصلات کے آلات، پانی صاف کرنے کے آلات اور کیمیائی حملے سے محفوظ رکھنے والا سامان شامل ہے۔
خیال رہے کہ شام میں باغی گروہوں میں محاذ آرائی اس وقت شروع ہوئی ہے جب شامی سکیورٹی فورسز نے پیش قدمی کرتے ہوئے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا شروع کیا ہے۔
اس سے پہلے شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شدت پسند جنگجو شامی انقلاب کو برباد کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو جن میں سے بہت سے اپنا تعلق القاعدہ سے بتاتے ہیں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فری سیریئن آرمی کے ایک مقامی کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ غیرملکی شدت پسند اس لڑائی کو ’جہاد‘ قرار دیتے ہیں اور انھوں نے منظم انداز میں تنظیم کے ان کمانڈروں کو نشانہ بنایا ہے جو اسے یہ رخ دینے پر تیار نہیں۔
اس سے پہلے امریکی وزارتِ خارجہ نے حال ہی میں شدت پسندوں کی جانب سے بھرتیوں کے جواب میں انگریزی بولنے والے افراد کو بھرتی کرنا شروع کیا ہے جس کا مقصد انٹرنیٹ پر شدت پسندوں کی کوششوں کو زائل کرنا ہے۔
شام میں مارچ 2011 سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی تحریک میں اقوام متحدہ کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔







