مصر:مرسی کی حامی خواتین کی رہائی کا حکم

سرخ گلاب ہاتھوں میں لیے یہ خواتین قیدیوں کے مخصوص لباس میں ملبوس تھیں
،تصویر کا کیپشنسرخ گلاب ہاتھوں میں لیے یہ خواتین قیدیوں کے مخصوص لباس میں ملبوس تھیں

مصر میں ایک اپیل عدالت نے سات نابالغ بچیوں سمیت ان 21 خواتین کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے جنہیں معزول صدر محمد مرسی کی حمایت میں مظاہرہ کرنے پر گزشتہ ماہ قید کی سزا دی گئی تھی۔

ان خواتین کو مختلف جرائم میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا جن میں دہشتگرد تنظیم کا رکن ہونا، ٹریفک روکنا اور گذشتہ ماہ سکندریہ میں احتجاجی مظاہرے میں طاقت کا استعمال شامل تھا۔

عدالت نے 18 سال سے کم عمر کی سات بچیوں کو تین ماہ نگرانی میں رکھنے کے علاوہ بقیہ 14 خواتین کوگیارہ سال قید کی سزا سنائی تھی۔

اپیل عدالت نے اب بچیوں کی سزا ختم کرتے ہوئے 14 خواتین کی سزا کو بھی ایک سال قید کی معطل سزا سے بدل دیا ہے۔

سنیچر کو ان خواتین قیدیوں کو اس سکندریہ کی عدالت میں ایک خصوصی پنجرے میں پیش کیا گیا اور سرخ گلاب ہاتھوں میں لیے یہ خواتین قیدیوں کے مخصوص لباس میں ملبوس تھیں۔

انھوں نے اپنی ہتھیلیوں پر لفظ ’آزادی‘ بھی تحریر کیا ہوا تھا اور کمرۂ عدالت میں موجود ان کے حامیوں نے فیصلہ سننے کے بعد اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔

سماعت کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

مصر میں رواں برس جولائی میں صدر مرسی کی حکومت گرائے جانے کے بعد سے ان کی تنظیم اخوان المسلمین کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

حکام اس آپریشن کو ’دہشتگردوں کے خلاف کارروائی‘ بتا رہے ہیں۔ ان کارروائیوں میں سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔