مصر میں مظاہرے، نئے آئین پر جنوری میں ریفرینڈم

قاہرہ کی یونیورسٹی میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشنقاہرہ کی یونیورسٹی میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں

مصر کے شہر قاہرہ میں پولیس نے معذول صدر محمد مرسی کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔

قاہرہ میں یہ مظاہرے اس وقت ہوئے ہیں جب آئین میں ترامیم تجویز کرنے کے لیے بنائے گئے پینل نے اس مسودے میں ترامیم منظور کی ہیں جو صدر مرسی کے دور میں بنایا گیا تھا۔

ترمیم شدہ آئین میں فوج کے لیے وسیع اختیارات تجویز کیے گئے ہیں جن میں شہریوں پو مقدمہ چلانے کے اختیارات بھی شامل ہیں۔

اس ترمیم شدہ آئین کو جنوری میں ریفرینڈم کے لیے پیش کیا جائے گا۔

پچاس رکنی پینل نے دو دن تک آئین کے ان حصوں پر بحث کے بعد ان میں ترامیم منظور کی ہیں جنھیں سابق صدر مرسی کے دور میں آئین میں شامل کیا گیا تھا۔

آئین میں انتخابات کے لیے دیے گئے نظام الاوقات میں بھی ترمیم کی گئی ہے لیکن مجوزہ ترمیم سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس نئے نظام کے تحت پارلیمانی انتخابات پہلے ہوں گے یا صدارتی انتخابات پہلے کرائے جائیں گے۔

مجوزہ آئین کی شق 247 کے تحت ریفرینڈم کے ذریعے آئین کی منظوری کے 90 دن کے اندر ملک میں عام انتخابات کرائے جانے ہیں، جب کہ دیگر انتخابات چھ ماہ بعد بھی کرائے جا سکتے ہیں۔

آئین میں ترامیم تجویز کرنے والے پینل کے سربراہ نے کہا کہ آئین کا مسودہ منگل کو عبوری صدر عدلی منصور کے حوالے کر دیا جائے گا۔

اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور عیسائی اقلیت کو منتخب ایوانوں میں مناسب نمائندگی دی جائے جب کہ ان کی تفصیلات کو مستقبل میں اس بارے میں بنائےجانے والے قوانین میں طے کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس مجوزہ آئین میں صدر کے لیے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کا اعلان کرے۔ اس کے علاوہ منتخب اراکین کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ صدر کا مواخذہ کر سکیں اور دو تہائی اکثریت سے قبل از وقت انتخابات بھی کروا سکیں۔

مصر کے شہر قاہرہ کا تحریر سکوئر وہ جگہ ہے جہاں سے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف انقلاب شروع ہوا اور اس ہی وجہ سے اس چوک نے عالمی شہرت حاصل کر لی۔ اب فوجی حکومت کے خلاف ایک مرتبہ پھر تحریر سکوئر میں اخوان المسلمین کے کارکن اور حامی مظاہرے کر رہے ہیں لیکن پولیس اور قانون نافذ کرنے والے مظاہرین کو جمع نہیں ہونے دے رہے۔