مصر: مظاہروں پر پابندی کا مخالف بلاگر گرفتار

مصر میں پولیس نے مظاہروں پر بندش کے نئے قانون کی خلاف ورزی پر اکسانے کے الزام میں ایک معروف بلاگر کو گرفتار کر لیا ہے۔
علیٰ عبدالفتاح نے منگل کو مصری پارلیمان کے باہر ایک احتجاجی ریلی میں شرکت کی تھی جس میں مظاہرین بغیر اجازت کے مظاہروں اور جلوسوں پر پابندی کے نئے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھ۔
بلاگر عبدالفتاح نے 2011 میں مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف بغاوت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
انہیں مبارک دور میں بھی گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اخوانِ المسلمین کی حکومت کے دوران بھی ان سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔
مصری کارکن کے اہلِخانہ کا کہنا ہے کہ انھیں جمعرات کی شب قاہرہ میں اپنی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔
عبدالفتاح کے والد اور معروف وکیل احمد سیف الاسلام نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان کی بہو کو پولیس کے چھاپے کے دوران مارا پیٹا گیا اور حکام ان کے مکان میں موجود لیپ ٹاپ بھی ساتھ لے گئے ہیں۔
مصری حکام نے بدھ کو علیٰ عبدالفتاح اور یوتھ موومنٹ کے سربراہ احمد مہر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان دونوں نے شوریٰ کی عمارت کے باہر احتجاج کر کے لوگوں کو ’اکسایا‘ کہ وہ ’مظاہروں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کریں‘۔
عبدالفتاح کا کہنا ہے کہ وہ اس الزام سے انکار نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ ’حسنی مبارک کے دور کی واپسی کو قانونی بنانے کے عمل کے خلاف عوامی ریلیوں کا ذمہ دار قرار دیا جانا قابلِ فخر ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دارالحکومت قاہرہ میں جمعرات کو بھی اس قانون کے خلاف احتجاج ہوا اور اس دوران پولیس نے مزید 24 افراد کو حراست میں لے لیا۔
مصر میں عبوری صدر عدلی منصور کے دستخطوں سے جاری ہونے والے قانون کے تحت پولیس کی اجازت کے بغیر مظاہروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا قانون تو بظاہر حسنی مبارک کے دور کے قوانین سے بھی زیادہ سخت ہے۔
قانون کے ناقدین کے مطابق یہ قانون عملاً حال ہی میں بے اثر ہونے والی ہنگامی حالت کا متبادل ہے۔







