مصر میں مظاہروں پر پابندی’جابرانہ‘ ہے: انسانی حقوق تنظیمیں

مصر میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے مظاہروں پر پابندی کے نئے قانون کی مذمت کی ہے اور اسے ’جابرانہ‘ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس نئے قانون کے تحت پولیس نوٹیفیکیشن کے بغیر مظاہرہ کرنا غیر قانونی ہوگا۔
عبوری صدر عدلی منصور نے اس نئے قانون پر دستخط کیا ہے۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ نیا قانون گذشتہ دنوں کالعدم قراردی جانے والی تنظیم اخوان المسلمین اور برطرف صدر مرسی کے حامیوں کو مظاہرے سے باز رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اس قانون پر اتوار کو دستخط کیا گیا جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں مزید مظاہرے کیے گئے۔
محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں کی تعداد میں دارالحکومت قاہرہ اور دیگر شہروں مین مظاہروں کے لیے جمع ہوئے۔
یہ لوگ صدر مرسی کی برطرفی کے خلاف اپنے دھرنے کے پولیس کے ذریعے ہٹائے جانے کے 100 ویں دن کے موقعے پر جمع ہوئے تھے۔
صدر مرسی کی برطرفی کے بعد مصر میں مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا تھا جس میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ جمعے کو اسی طرح کا ایک مظاہرہ کیا گیا تھا جس میں مرسی حامی اور مرسی مخالف مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے۔
اس سے قبل مصر میں انسانی حقوق کی تنظیم نے اس نئے مجوزہ قانون کو مسترد کردیا تھا جس کی عبوری صدر عدلی نے اتوار کو توثیق کی۔
مصر کی 19 تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا: ’اس قانون کے تحت تمام پرامن اجتماعات بشمول مظاہرے اور عوامی اجتماعات سب کے سب غیر قانونی قرار پائیں گے، اور اس کے ذریعے حکومت کو کسی بھی پرامن بھیڑ کو طاقت کے زور پر منتشر کرنے کا جواز مل جائے گا۔‘
لیکن مصری وزیرِ اعظم حاذم الببلاوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نئے قانون کے تحت مظاہرہ کاروں کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور انہیں اجازت نامہ حاصل کرنے کے بجائے نوٹس دینا ہو گا۔‘
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے تحت کم از کم تین دن قبل نوٹس دینا ہوگا۔ اس سے پہلے سات دن قبل نوٹس دینے کی بات کہی گئی تھی۔
مصر میں آئندہ سال پارلیمانی انتخابات ہونے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کو جمہوری طرزِ عمل کے منافی تصور کرتی ہیں۔







