شام میں 93 لاکھ افراد امداد کے منتظر: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ میں فلاحی کاموں کی سربراہ ویلری آموس کا کہنا ہے کہ شام میں 93 لاکھ افراد کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار سے یہ نئی تعداد 25 لاکھ زیادہ ہے جو ملک کی کل آبادی کا 40 فیصد بنتی ہے۔
بیرونس ویلری آموس نے سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ شام میں بحران تیزی سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ’سکیورٹی کونسل کو چاہیے کہ شامی حکومت اور باغیوں پر زور دے کہ لوگوں تک امداد پہنچنے دی جائے۔‘
دوسری جانب شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مذاکرت کی راہ تلاش کرنے کی غرض سے منگل کو جنیوا میں بات چیت ہو رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی الاخضر براہیمی کی میزبانی میں ہونی والی یہ ملاقات کئی ماہ سے اس لیے مؤخر ہو رہی تھی کہ کس کو اس میں شامل ہونا چاہیے اور کس کو نہیں۔ منگل کو سب سے پہلے امریکہ اور روس کے سفارت کاروں میں تبادلۂ خیال ہوگا۔

ویلری بیرونس اموس کی ترجمان ایمنڈا پِٹ نے میڈیا کو بتایا ’بیرونس نے شام میں فریقین پر اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے سکیورٹی کونسل کی مدد مانگی تاکہ عوام کی شہری سہولیات کی حفاظت ہو سکے، طبی عملہ اور طبی سامان لوگوں تک پہنچایا جا سکے اور امدادی سامان باحفاظت اور بغیر کسی رکاوٹ کے لوگوں تک پہنچنے دیا جائے۔‘
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ستمبر میں جن افراد کو امداد کی ضرورت تھی ان کی تعداد 68 لاکھ تھی جو اب بڑھ کر 93 لاکھ ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ شام کی کُل آبادی دو کروڑ 30 لاکھ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کے مطابق 25 لاکھ افراد شام کے ایسے علاقوں میں ہیں جہاں جھڑپیں جاری ہیں۔ ان افراد کے پاس خوراک یا بجلی یا طبی امداد تک رسائی نہیں ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ جن افراد کو مدد چاہیے ان میں سے نصف سے زیادہ وہ ہیں جو خانہ جنگی کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان افراد کی تعداد 65 لاکھ ہے جبکہ جون میں یہ تعداد ساڑھے 42 لاکھ تھی۔
پچھلے ماہ ہی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں شہریوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ شہریوں تک امداد پہنچنے دی جائے۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق مارچ 2011 سے 28 لاکھ افراد شام سے ہجرت کر گئے ہیں۔







