اوباما کا روحانی کو فون، 34 سال میں ’پہلا رابطہ‘

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ انہوں نے فون پر اپنے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کی ہے جو کہ گزشتہ چونتیس سالوں میں دونوں ممالک میں اعلیٰ ترین سطح پر پہلا رابطہ ہے۔
صدر اوباما نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک ’منفرد موقع‘ کی بات کی جو ایک ایسے وقت میں ہوا جب اس معاملے پر سفارت کاری عروج پر ہے۔
صدر روحانی نے ٹویٹ کی کہ میں اس وقت امریکی صدر اوباما سے بات کر رہا ہوں جس میں ’صدر روحانی نے اوباما سے کہا ’آپ کا دن بہترین گزرے‘۔ صدر اوباما نے جواب دیا ’شکریہ، خدا حافظ‘۔
ایرانی صدر نے مزید ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اس فون پر گفتگو میں صدر روحانی اور صدر اوباما نے باہمی طور پر جوہری تنازع کے سیاسی حل کے عزم کا اظہار کیا‘۔
ایرانی صدر کی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’صدر اوباما نے صدر روحانی کو کہا میں آپ اور ایرانی عوام کی عزت کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری سے خطے میں بڑے پیمانے پر بہتری آئے گی۔ اگر ہم جوہری معاملے پر پیش رفت کرتے ہیں تو دوسرے معاملات جیسا کہ شام کا معاملہ ہے پر بھی مثبت اثر پڑے گا‘۔
آخر میں صدر اوباما نے صدر روحانی کو کہا کہ وہ ’ان کے واپسی کے لیے ایک خوشگوار سفر کی دعا کرتے ہیں اور معذرت چاہتے ہیں اگر انہیں نیویارک کی بے ہنگم ٹریفک کا سامنا کرنا پڑا ہے‘۔
صدر روحانی کی ٹویٹ کے مطابق صدر روحانی نے کہا کہ ’جوہری تنازع کے حوالے سے سیاسی قوت ارادی کے ساتھ اس کا تیزی سے حل ممکن ہے۔ ہم پر امید ہیں کہ ہم چھ رکنی مذاکرات اور امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں جو سامنے آئے گا۔‘
صدر روحانی نے آخر میں ’کہا کہ میں آپ کی میزبانی اور آپ کی فون کال کا شکر گزار ہوں۔ آپ کے لیے ایک خوشگوار دن کی تمنا کرتا ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل ایرانی صدر روحانی کہ چکے ہیں کہ وہ تین سے چھ ماہ کے عرصے میں اپنے ملک کے ایٹمی پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتہ چاہتے ہیں۔
حسن روحانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں اس معاملے پر بات چیت کے سلسلے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
ایران نے جمعرات کو چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر بات چیت کی ہے۔
جمعرات کو چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات کے بعد اس اجلاس کی صدارت کرنے والی یورپی یونین کی امورِ خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام پر اب 15 اکتوبر سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ٹھوس بات چیت شروع ہوگی۔
ایرانی صدر نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران اپنے ایٹمی پروگرام پر ’نتیجہ خیز‘ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی سے اپنے جوہری پروگرام پر 2006 سے بات چیت کر رہا ہے جو ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی ہے۔
مغربی طاقتوں کو شک ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے تاہم ایران اس الزام کو رد کرتا ہے۔







