’جوہری پروگرام پر چند ماہ میں سمجھوتہ چاہتے ہیں‘

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے وہ تین سے چھ ماہ کے عرصے میں اپنے ملک کے ایٹمی پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتہ چاہتے ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے بات چیت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کے حل کو ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کا ’نقطۂ آغاز‘ سمجھتے ہیں۔
حسن روحانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں اس معاملے پر بات چیت کے سلسلے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
ایران جمعرات کو چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر بات چیت کرنے والا ہے۔
اس کے علاوہ ایرانی وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نیویارک میں اپنے امریکی ہم منصب سے بھی مل رہے ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں اس سطح پر دونوں ممالک کی یہ پہلی ملاقات ہوگی۔
ایرانی صدر نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران اپنے ایٹمی پروگرام پر ’نتیجہ خیز‘ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی سے اپنے جوہری پروگرام پر 2006 سے بات چیت کر رہا ہے جو ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی ہے۔
مغربی طاقتوں کو شک ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے تاہم ایران اس الزام کو رد کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی اخبار سے بات چیت میں جب جوہری مسئلے کے حل کے نظام الاوقات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’آگے بڑھنے کا واحد حل یہی ہے کہ بات چیت میں ایک ایسی مدت کا تعین کیا جائے جو کم ہو۔‘
’جتنی یہ مدت کم ہوگی اتنا سب کا فائدہ ہے۔ اگر یہ تین ماہ ہوتی ہے تو یہ ایران کے لیے پسندیدہ ہوگا۔ اگر چھ ماہ تو پھر بھی ٹھیک ہے۔ یہ برسوں کا نہیں مہینوں کا سوال ہے۔‘
ایرانی صدر نے کہا کہ اگر وہ اور امریکی صدر ملتے ہیں تو نظر ’مستقبل پر ہوگی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر اوباما اور ان کے درمیان جن خطوط کا تبادلہ ہوا ہے وہ اسی سمت میں ہیں اور یہ سفر جاری رہے گا۔
حسن روحانی کے مطابق ’ہمیں ایک نقطۂ آغاز کی ضرورت ہے اور میرے خیال میں یہ جوہری معامل وہ نقطہ ہے۔‘
امریکی صدر نے صدر روحانی کے اس معتدل رویے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ جوہری مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے لیکن وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔







