’مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں فوجی کارروائیاں کرتے رہیں گے‘

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے مشرق وسطی اور افریقہ میں ممکنہ خطرات کا سر کچلنے کے لیے امریکہ براہ راست فوجی کارروائیاں کرتے رہے گا اور جہاں کہیں بھی سفارت کاری ناکام ہو گئی وہاں فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام کا بھی ذکر کیا۔
انھوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوئی بنیاد ہونی چاہیے لیکن اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو عبور کرنا مشکل ہے لیکن وہ سفارت کاری کو موقع دینے پر یقین رکھتے ہیں۔
مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ کے بارے امریکی پالیسی بیان کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ جہاں بھی سفارت کاری ناکام ہو گی امریکہ براہ راست فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری معاملات کا پرامن حل چاہتے ہیں لیکن وہ کسی صورت بھی ایران کو جوہری اسلحہ حاصل نہیں کرنے دیں گے۔
صدر اوباما نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل پر زور دیا کہ وہ شام کو کیمیائی ہتھیاروں کےحوالے سے کیے گئے اپنے وعدوں پر کاربند رہنے پر مجبور کرنے کے لیے سخت قرارداد منظور کرے۔
امریکی صدر نے کہا کہ شام کی صورتحال کی وجہ سے پیدا ہونے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے امریکہ 340 ملین ڈالر کی اضافی امداد دے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







