اسرائیلی فوج کے رویے پر سفارت کاروں کا احتجاج

اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت غربِ اردن پر سنہ انیس سو سڑسٹھ سے قبضہ کیا ہوا ہے
،تصویر کا کیپشناسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت غربِ اردن پر سنہ انیس سو سڑسٹھ سے قبضہ کیا ہوا ہے

یورپی ممالک کے سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غرب اردن میں خانہ بدوشوں کو امدادی سامان کی تقسیم سے روکے جانے پر احتجاج کیا ہے۔

ایک فرانسیسی سفارت کار کے مطابق انہیں گاڑی سے نیچے اترنے پر مجبور کیا گیا۔

<link type="page"><caption> اسرائیل میں عرب بدو اور صیہونیت</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/01/130117_israel_negev_unsettles_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

ہائی کورٹ کے حکم پر پیر کو غرب اردن کے علاقے خربۃ المكحول میں خانہ بدوشوں کے مکانات کو منہدم کر دیا گیا تھا اور اس اقدام کے بعد بے گھر ہونے والے افراد میں امداد تقسیم کی جانی تھی۔

خانہ بدوشوں نے یہ کہہ کر یہاں سے جانے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ کئی نسلوں سے یہاں مقیم ہیں۔

اسرائیل کے ترجمان کے مطابق وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ سفارت کاروں سے برا سلوک تو نہیں کیا گیا۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی وہ علاقے میں پہنچے تو ایک درجن کے قریب اسرائیلی فوج کی گاڑیوں نے ان کو گھیر لیا اور حکم دیا کہ امدادی سامان ٹرکوں سے نیچے نہ اتارا جائے۔

فرانس کی سفارت کار میرن فسینو کاسٹانے نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’ مجھے حاصل سفارتی استثنیٰ کے باوجود ٹرک سے زبردستی نیچے اتارا گیا۔ یہاں کسی بین الاقوامی قانون کا احترام نہیں کیا جا رہا ہے‘۔

ایک یورپی اہلکار نے اسرائیلی کارروائی کو’چونکا دینے والی اور اشتعال انگیز‘ قرار دیا۔

یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کے ایک ترجمان کے مطابق’یہ اطلاعات قابل تشویش ہیں کہ اسرائیلی فوج نے ایک متاثرہ کیمونٹی کو امدادی سامان فراہم کرنے سے روک دیا‘۔

’ہم نے آبادیوں کو منہدم کرنے کے واقعات پر کئی بار اسرائیل کو اپنے خدشات کے بارے میں آگاہ کیا ہے کیونکہ ہمارے خیال سے ایسے اقدامات سے عام فلسطینی شہریوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا ہے، امن کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں‘۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے اسرائیلی افواج کے حوالے سے بتایا کہ’درجنوں فلسطینیوں، غیر ملکی کارکنوں اور سفارت کاروں نے زبردستی خیمے لگانے کی کوشش کی اور یہ جارحیت ہے۔ سکیورٹی فورسز پر ہجوم نے پتھر پھینکے جبکہ فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اعصاب شکن دستی بموں کا استعمال کیا‘۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت غربِ اردن پر سنہ انیس سو سڑسٹھ سے قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں ایک سو کے قریب بستیوں میں پانچ لاکھ یہودی آباد ہیں۔ یہ بستیوں عالمی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا۔