’ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا‘

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ صدر اوباما اور صدر روحانی کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنبدھ کے روز وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ صدر اوباما اور صدر روحانی کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہوا ہے

ایران کے نو منتخب صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

امریکی ٹی وی چینل این بی سی سے بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ انہیں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

حال ہی میں صدر اوباما کی جانب سے انہیں بھیجے گئے ایک خط کو انہوں نے ’تعمیری اور مثبت‘ قرار دیا۔

یاد رہے کہ ایران کی حکومت نے 11 سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے جن میں انسانی حقوق کی معروف وکیل نسرین ستودہ بھی شامل ہیں۔

رہا کیے جانے والے تین مردوں اور آٹھ خواتین میں سیاستدان محسن امین زادہ بھی شامل ہیں۔

اپنی انتخابی مہم میں حسن روحانی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سیاسی قیدیوں کو رہا کریں گے۔ اس کے علاوہ انھوں نے بین الاقوامی امور میں قدرے روشن خیالی سے کام لینے کا بھی عہد کیا تھا۔

حسن روحانی آئندہ ہفتے امریکہ کے شہر نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے جائیں گے۔

بی بی سی کے ایرانی امور کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ صدر روحانی کا امریکی چینل سے بات کرنا اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ان کی حکومت مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کس قدر خواہاں ہے۔

ایران کو اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی پرامن مقاصد کے لیے کر رہا ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شک ہے کہ ایرانی قیادت جوہری بم بنانے کی کوششیں کر رہی ہے۔

ایران کی حکومت نے گیارہ سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے جن میں انسانی حقوق کی معروف وکیل نصرین صتودے بھی شامل ہیں
،تصویر کا کیپشنایران کی حکومت نے گیارہ سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے جن میں انسانی حقوق کی معروف وکیل نصرین صتودے بھی شامل ہیں

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ صدر اوباما اور صدر روحانی کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہوا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا تھا کہ اپنے خط میں صدر اوباما نے ایرانی صدر سے کہا ہے کہ امریکہ جوہری تنازعے کو اس طرز سے حل کرنے کو تیار ہے جس کے تحت ایران کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ ثابت کرے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

صدر اوباما نے اپنے خط میں مزید کہا کہ ہمیں اس معاملے کو جلد حل کرنا ہوگا کیونکہ اگرچہ ہم بہت عرصے سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ان معاملات کو سفارتی طریقوں سے حل کرنے کا امکان ہے، تاہم یہ راستہ ہمیشہ موجود نہیں ہوگا۔

اس سے ایک دن قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اپنا نرم ترین بیان بھی دیا تھا۔ پاسدارانِ انقلاب سے ایک ملاقات میں انہوں نے کہا کہ ’میں سفارت کاری کے خلاف نہیں ہوں۔ میں ایک فاتح کی جانب سے نرم رویہ دکھانے کے حق میں ہوں۔ پہلوان پینترا بدل کر وقتی طور پر پیچھے ہٹ جاتا ہے، لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا مخالف اور دشمن کون ہے۔‘

بدھ کے روز ایران کی جوہری ایجنسی کے سربراہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مغربی ممالک کے ساتھ جوہری تنازعے کے حل میں اس سال اہم پیش رفت کی توقع رکھتے ہیں۔