ایران:’فیس بک، ٹوئٹر پر عائد پابندی ختم‘

ایران میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2009 کے بعد پہلی مرتبہ آزادانہ طور پر فیس بک اور ٹوئٹر جیسی سوشل میڈیا ویب سائٹس استعمال کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔
2009 میں اس وقت کی ایرانی حکومت نے ملک میں حزبِ اختلاف کے مظاہروں کا اثر کم کرنے کے لیے ان ویب سائٹس کو بلاک کر دیا تھا۔
ایران میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والی کئی کمپنیوں کے صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پیر کو کسی مخصوص سافٹ ویئر کی مدد کے بغیر ان ویب سائٹس تک رسائی پائی۔
ایرانی حکومت کی جانب سے ان ویب سائٹس پر عائد پابندی کے خاتمے کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ آزادانہ رسائی کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔
تاہم شہری حقوق کے لیے سرگرم تنظیم الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن میں انٹرنیشنل فریڈم آف ایکسپریشن کی ڈائریکٹر جلیئن یارک نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ انہیں ایسی کئی اطلاعات ملی ہیں کہ بظاہر یہ پابندی ختم کر دی گئی ہے۔
ان کے مطابق ایران میں صرف فیس بک اور ٹوئٹر ہی نہیں بلکہ کچھ دیگر ویب سائٹس تک بھی رسائی ممکن ہوئی ہے جن میں نیشنل ایرانین امریکن کونسل جیسی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے نئے صدر حسن روحانی ملک میں موجود سنسرشپ میں کمی کا وعدہ کر چکے ہیں۔ ان کی کابینہ کے کئی ارکان نے بھی فیس بک پر صفحات اور ٹوئٹر پر اپنے اکاؤنٹ بنائے ہیں۔
خود ایرانی صدر اور ان کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے رواں ماہ کے آغاز میں ٹوئٹر پر یہودیوں کو ان کے نئے سال کے آغاز پر مبارکباد دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







