کیلی فورنیا کی آگ، 600 مربع کلومیٹر علاقہ لپیٹ میں

حکام نے کہا ہے کہ کیلی فورنیا کے یوسومِٹی نیشنل پارک کے اندر اور اردگرد بھڑکنے والی آگ پھیل رہی ہے اور اب اس نے 600 مربع کلومیٹر کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
پیر کے روز حکام نے بتایا کہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک جلنے کے بعد آگ پر صرف 15 فیصد قابو پایا جا سکا ہے۔
آگ اب پانی کے اس اہم ذخیرے پر راکھ برسا رہی ہے جس سے سان فرانسسکو شہر کو پانی اور بجلی فراہم ہوتی ہے۔
گورنر کیری براؤن نے علاقے کا دورہ کیا اور کہا کہ فائیر فایٹرز ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ آگ پہ قابو پایا جا سکے۔ شہر کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ پانی کو نچلے ذخائر تک منتقل کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ پانی میں ملاوٹ تو نہیں ہوئی۔
آگ کے شعلوں سے ہزاروں مکانات اور کیلی فورنیا کے مشہورِ زمانہ عظیم الجثہ ریڈ وڈ درختوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ پر قابو پانے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
کیلی فورنیا کے محکمۂ جنگلات اور آگ کی روک تھام کے ادارے کے ڈینیئل برلینٹ نے کہا کہ یہ آگ ہر ممکن مشکل پیش کر رہی ہے اور اسے بجھانا بہت مشکل ہے۔
آگ 17 اگست کو شروع ہوئی تھی، تاہم اس کی وجہ کا ابھی تک علم نہیں ہو سکا۔ 28 ہزار سے زیادہ فائر فائٹر آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
علاقے سے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔ آگ سے پانچ ہزار مکانوں کو خطرہ ہے، تاہم اب تک صرف چند گھر ہی اس کی زد میں آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیلی فورنیا کے گورنر جیری براؤن نے 220 کلومیٹر دور سان فرانسسکو شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے، کیوں کہ آگ سے بجلی کی ان تاروں کو بھی خطرہ ہے جو شہر کو بحلی پہنچاتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہیچ ہیچی ذخیرے پر راکھ برف کی مانند گر رہی ہے۔ سان فرانسسکو کا 85 فیصد پانی یہاں سے فراہم ہوتا ہے۔ اس علاقے میں نظر کی حد صرف ایک سو فٹ رہ گئی ہے، تاہم حکام نے کہا ہے کہ پانی کا معیار اب بھی اچھا ہے۔
شہر کی عوامی سہولیات کے کمیشن کے جنرل مینیجر ہارلن کیلی جونیئر نے کہا: ’ہم جہاں تک ممکن ہے، پانی نیچے لے کر آ رہے ہیں اور تمام مقامی ذخیروں کو بھر رہے ہیں۔‘







