لیبیا: وزیرِ داخلہ محمد خلیفہ الشیخ مستعفی

لیبیا کے وزیرِ داخلہ محمد خلیفہ الشیخ نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے تین ماہ بعد ہی استعفیٰ دے دیا ہے۔
محمد خلیفہ الشیخ کا کہنا تھا کہ انہیں اب وزیرِاعظم علی زیدان کی حمایت حاصل نہیں رہی تھی۔ انہوں نے جنرل نیشنل کانگریس کے اراکین کی جانب سے وزارتی امور میں مداخلت کی شکایت بھی کی۔
لیبیا کی وزارتِ داخلہ کو سنہ دو ہزار گیارہ میں قذافی حکومت کے گرنے کے بعد سے ملک میں فسادات کی ایک لہر سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔
گذشتہ دو ہفتوں میں کابینہ چھوڑنے والے خلیفہ الشیخ دوسرے وزیر ہیں۔
چار اگست کو عواد البراسی نے نائب وزیرِاعظم کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں فسادات پر قابو پانے، لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے اور ریاستی اداروں کو وسائل مہیا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔
رکنِ پارلیمان عبد اللہ الغامتی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کو محمد الشیخ نے جنرل نیشنل کانگریس کے سامنے ایک خط پڑھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اب وزیرِاعظم علی زیدان کی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔
عبد اللہ الغامتی نے مزید بتایا کہ وزیرِ داخلہ نے یہ بھی شکایت کی کہ انہیں اپنے اصلاحاتی پرواگرام پر عملدرآمد کرنے کے لیے مالی یا اخلاقی مدد نہیں دی جا رہی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد خلیفہ الشیخ طرابلس کی پولیس کے سابق کرنل ہیں۔ انہیں نے یہ کہا کہ اہلکاروں کو برطرف کرنے کی کوششوں کے حوالے سے انہیں کانگریس کے اراکین سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔







