لیبیا میں اعلیٰ حکومتی اہلکار اغواء

لیبیا میں حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم علی زیدان کے ایک اعلیٰ ترین اہلکار کو دارالحکومت طرابلس کے مضافات سے اغواء کر لیا گیا ہے۔
محمد ال غطوس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے انہیں ضلع غوث الرحمان سے اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ آبائی شہر مسراتہ سے واپس آ رہے تھے۔
ان کی کار مل گئی ہے اور حکام نے تلاشی کا آپریشن شروع کر دیا ہے۔
اتوار کو وزیراعظم نے خبردار کیا تھا کہ حکومتی ارکان کو جان کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔
انہوں نے معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ چند ماہ پہلے اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ’مشکل ترین حالات‘ میں کام کر رہے ہیں۔
ان کی کابینہ کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ بغیر کسی شبہ کہ محمد ال غطوس کو ایک جعلی چیک پوسٹ سے اغواء کیا گیا‘۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اغواء کاروں نے خود کو سکیورٹی اہلکار ظاہر کیا۔
حکومتی ذرائع نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ’کوئی نہیں جانتا کہ محمد ال غطوس کہاں ہیں، انہوں( اغواء کاروں) نے کار پیچھے چھوڑ دی کیونکہ ان کے خیال میں اس سے پتہ چلایا جا سکتا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طرابلس میں بی بی سی کی نامہ نگار راعنا جواد کا کہنا ہے کہ حکومت نے جب سے ملیشیا کو غیر مسلح اور توڑنے کا اعلان کیا ہے اس وقت سے کابینہ کو سکیورٹی کے حوالے سے لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے‘۔
گذشتہ ہفتے ایک مسلح گروپ نے وزیراعظم کی عمارت کو کچھ دیر کے لیے گھیرے لیتے ہوئے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جبکہ اسی طرح سے وزارتِ انصاف کی عمارت کو کئی گھنٹے تک گھیرے میں لیے رکھا گیا۔
لیبیا میں اب بھی حکومت سابق حکمران کرنل قذافی کے اقتدار کا خاتمہ کرنے والی ملیشیا پر اپنی رٹ قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔







