کوریا:بچھڑے خاندانوں کو ملانے پر اتفاق

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی طرف سے پیش کردہ اس تجویز پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت 1950 سے 1953 تک ہونے والی جنگ کے دوران ایک دوسرے سے جدا ہونے والے خاندانوں کو دوبارہ ملایا جائے گا۔
ان بچھڑے خاندانوں کا ملاپ شمالی کوریا کے ایک سیاحتی مقام پر انیس ستمبر کو ہوگا۔
جنوبی کوریا کے صدر گیون ہائی نے گذشتہ ہفتے ان بچھڑے خاندانوں کو دوبارہ ملانے کے لیے کہا تھا۔
یہ خاندان ایک آخری بار 2010 میں ملے تھے۔
جنوبی کوریا کی صدر کی طرف سے اپیل کے بعد شمالی اور جنوبی کوریا کے حکام کے درمیان کائے سونگ اقتصادی زون کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق ہو گیا تھا۔
خاندانوں کو دوبارہ ملانے کے بارے میں بیان شمالی کوریا کی کمیٹی فار پیسفل ری یونیفیکیشن آف کوریا(سی پی آر کے) کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ’بچھڑے خاندانوں اور ان کے رشتہ داروں کو کم گانگ کے سیاحتی مقام پر ملایا جائے گا۔‘
خاندانوں کے ملاپ کے لیے تیاری کے سلسلے میں دونوں جانب سے ریڈکراس کے حکام کے درمیان بات چیت 23 اگست کو ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی کوریا کی طرف سے جاری بیان میں ایم ٹی کم گانگ میں سیاحوں کی آمد پر پابندی ہٹانے کا بھی کہا گیا تھا۔
کوریا میں 1950-1953 کی جنگ کے اختتام کے بعد ملک کی تقسیم کی وجہ سے بہت سے خاندان ایک دوسرے سے جدا ہو گئے تھے۔
دونوں ممالک اب بھی تکنیکی اعتبار سے حالتِ جنگ میں ہیں کیونکہ ان کے درمیان کشیدگی جنگ بندی کی وجہ سے ختم ہوگئی تھی اور باضابطہ کوئی امن معاہدہ نہیں ہوا تھا۔
کم گانگ ریزورٹ نے جو دونوں ممالک کے درمیان پہلا مشترکہ پروجیکٹ تھا، 1998 سے 2008 تک ہزاروں سیاحوں کی میزبانی کی۔ لیکن جب شمالی کوریا کے ایک فوجی نے ایک سیاح کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جو غلطی سے ممنوعہ علاقے میں داخل ہوگیا تھا تو اس کے بعد سیاحوں کے اس علاقے میں سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
سی پی آر کے نے اپنے بیان میں کہا کہ’کائے سونگ اقتصادی زون اور کم گانگ کے دورے قوم کے لیے مفید ہیں جن میں دیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ اتفاقِ رائے، اتحاد، دوبارہ ملاپ اور خوشحالی کی نشانیاں ہیں۔‘
کائے سونگ اقتصادی کمپلکس دونوں کوریا کے درمیان سرحد پر شمالی کوریا میں واقع علاقہ ہے جہاں جنوبی کوریا کی 123 فیکٹریاں قائم ہیں جن میں 50 ہزار سے زیادہ شمالی کوریا کے ملازمین کام کرتے ہیں۔
یہ دونوں کوریا کے مابین آخری فعال مشترکہ پروجیکٹ ہے اور شمالی کوریا کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔







