کائے سونگ اقتصادی زون کھولنے پر اتفاق

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں حکام کا کہنا ہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے حکام کے درمیان کائے سونگ اقتصادی زون کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ اپریل کے مہینے سے وہاں کام بند ہے جب شمالی کوریا نے بڑھتے ہوئے سیاسی تنازعات کے باعث اپنے ملازمین کو واپس بلا لیا تھا۔
بدھ کو جنوبی کوریا کی یونیفیکیشن وزارت نے کہا کہ ایک پانچ نکاتی معاہدے پر اتفاق ہو گيا ہے لیکن یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ کائے سونگ میں کام دوبارہ کب شروع ہو سکے گا۔
یہ معاہدہ چھ ادوار کی بات چیت کے بعد سیول کے ’حتمی بات چیت‘ کے اعلان کا نتیجہ ہے۔
جنوبی کوریا کے خبررساں ادارے یون ہیپ نے کہا ہے کہ شمالی اورجنوبای کوریا کوریا کے وفود کے سربراہوں کی جانب سے اس معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔
بہرحال معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں لیکن یون ہیپ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح سے آپریشن بند کرنےکے واقعے کو دہرایا نہیں جائے گا۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق معاہدے میں کہا گیا ہے ’جنوبی اور شمالی کوریا ملازمین کی واپسی کے نتیجے میں کائے سونگ اقتصادی کمپلکس کے بند ہوجانے جیسے واقعات کو پھر سے نہیں ہونے دیں گے۔‘
اے ایف پی کے مطابق معاشی نقصانات کی تلافی پر غور کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کائے سونگ اقتصادی کمپلکس دونوں کوریا کے درمیان سرحد پر شمالی کوریا میں واقع علاقہ ہے جہاں جنوبی کوریا کی 123 فیکٹریاں قائم ہیں جن میں 50 ہزار سے زیادہ شمالی کوریا کے ملازمین کام کرتے ہیں۔
یہ دونوں کوریا کے مابین آخری فعال مشترکہ پروجیکٹ ہے اور پیونگ یانگ کےلیے آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔
پیونگ یانگ نے اس زون سے اپریل کے مہینے میں اپنے 53 ہزار مزدوروں کو بظاہر اقوام متحدہ کے ذریعے لگائی گئي پابندی پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے ہٹا لیا تھا۔
اس سال 12 فروری کو جب شمالی کوریا نے ایٹمی تجربہ کیا تو اس کے جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے اور اقوام متحدہ نے اس پر بعض پابندیاں عائد کی تھیں۔
اس کے بعد سے تنازعات میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔
پیونگ یانگ نے بدھ کی بات چیت کے لیے اس وقت رضامندی ظاہر کی جب سیول نے کہا کہ وہ جنوبی کوریائی کمپنیوں کو اس تعطل کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے تیار ہے۔ سیول کے اس اعلان کو اس اقتصادی زون کو باضابطہ طور پر بند کرنے کے طور پر دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ منگل کو اس اقتصادی زون میں موجود جنوبی کوریائی فیکٹریوں کے مالکان نے معاہدے کی اپیل کی تھی۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے کہا تھا کہ اس زون کا کھولا جانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔







