’پہلے قراردادیں مانیں، پھر بات چیت ہوگی‘

شمالی کوریا کو بظاہر اقوامِ متحدہ کی جانب سے سخت پابندیوں اور جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ جنگی مشقوں پر غصہ تھا
،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا کو بظاہر اقوامِ متحدہ کی جانب سے سخت پابندیوں اور جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ جنگی مشقوں پر غصہ تھا

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ اُن کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرنے کے لے تیار ہے لیکن اس سے پہلے پیانگ یانگ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کی پابندی کرنا ہوگی۔

یہ بات امریکی وائٹ ہاؤس نے شمالی کوریا کی طرف سے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں کہی ہے۔ شمالی کوریا نے مذاکرات کے لیے کوئی شرط نہ رکھنے کا کہا ہے تاہم اُن کا اصرار ہے کہ مذاکرات میں امریکی جوہری ہتھیاروں پر بھی بات ہونی چاہیے۔

اس سے پہلے شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ حکومت نے امریکہ کو اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

خبررساں ادارے کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کے قومی دفاع کمیشن نے خطے میں امن و استحکام کی بحالی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ کو ’سنجیدہ مذاکرات‘ کی پیشکش کی۔

شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے بعد امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ اس کے رشتے مزید کشیدہ ہوگئے
،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا کے جوہری تجربے کے بعد امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ اس کے رشتے مزید کشیدہ ہوگئے

کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ان مذاکرات کے لیے وقت اور مقام کا تعین واشنگٹن اپنی مرضی کے مطابق کر سکتا ہے تاہم اس کے لیے پہلے سے کوئی شرط نہیں رکھی جائے گی۔

یاد رہے کہ جمعرات کو شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ تجویز کردہ مذاکرات یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیے تھے کہ جنوبی کوریا ’مغرور اور خود پسند رکاوٹیں‘ پیدا کر رہا ہے۔

شمالی کوریا نے کہا کہ جنوبی کوریا نے اپنے وفد کے سربراہ کو تبدیل کر کے ’دانستہ خلل اندازی‘ کی جس کے نتیجے میں دو ممالک کے حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت شروع ہونے سے قبل ہی ختم ہو گئی۔

دوسری جانب سیول نے کہا کہ وہ اس قسم کے جوابی عمل سے مایوس ہوا ہے۔

اس سال کے اوائل میں پیانگ یانگ نے جنوبی کوریا اور امریکہ کو جوہری ہتھیار اور میزائلوں کے حملے کی دھمکی دی تھی۔

رواں سال فروری میں شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ نے اس پر پابندیاں عائد کر دیں جس کے خلاف شمالی کوریا کی قیادت نے انتہائی سخت الفاظ میں بیان کا ایک سلسلہ جاری رکھا۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ ناگہانی اور بحرانی صورت حال میں استعمال کی جانے والی ہاٹ لائن کو بھی منقطع کر دیا اور ایک مشترکہ صنعتی پارک منصوبے سے اپنے کارکنوں کو بھی واپس بلا لیا تھا۔

شمالی کوریا کو بظاہر اقوامِ متحدہ کی جانب سے سخت پابندیوں اور جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ جنگی مشقوں پر غصہ تھا۔