کائے سونگ اقتصادی زون کھولنے پر مذاکرات

شمالی اور جنوبی کوریا کے حکام دونوں ممالک کی شرحد پر واقعہ کائےسونگ اقتصادی زون کو دوبارہ کھولنے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے غیر فوجی علاقے میں واقع پانمونجون میں سنيچر کو بات چیت شروع کی۔
یاد رہے کہ اپریل میں خطے میں زبردست تناؤ کے باعث کائےسونگ اقتصادی پارک کی فیکٹریوں میں کام بند کر دیا گیا تھا۔ یہ فیکٹریاں شمالی کوریا کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔
اس کے بعد گزشتہ مہینے دونوں جانب سے ہونے والی اعلیٰ سطح کی بات چیت کی کوشش بھی ناکام ہو گئی تھی۔
جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین بات چیت شمالی کوریا میں پانمونجون کے شہر میں ہو رہی ہے۔
جنوبی کوریا کے حکام نے جمعرات کو عملی سطح پر بات چیت کے لیے کہا تھا۔ اس سے ایک روز قبل پیونگ یانگ نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی کوریا کے کاروباری لوگ بند کارخانوں کا جائزہ لے سکتے ہیں اور مشینوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا کے حکام نے بتایا کہ جمعرات کی شام شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی پیشکش کو قبول کر لیا۔
اقتصادی پارک میں کام بند کیے جانے سے قبل وہاں جنوبی کوریا کی 120 کمپنیاں تھیں اور یہ کمپنیاں گذشتہ تین مہینوں سے وہاں سے اپنا سامان نکالنے میں ناکام ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض کمپنیوں نے ایسی صورت حال میں پوری طرح سے اس زون کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوجانے کی دھمکی دی ہے۔

پیونگ یانگ نے اس زون سے اپریل کے مہینے میں اپنے 53 ہزار مزدوروں کو بظاہر اقوام متحدہ کے ذریعہ لگائی گئي پابندی پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے ہٹا لیا تھا۔
اس سال فروری میں جب شمالی کوریا نے ایٹمی تجربہ کیا تو اس کے جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے اور اقوام متحدہ نے اس پر بعض پابندیاں عائد کی تھیں۔
شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے مزدوروں کو بھی اس کمرشیل زون میں داخل ہونے سے منع کر دیا تھا۔
سیول میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ویلیمسن کا کہنا ہے کہ کائے سونگ کو دونوں کوریا کے درمیان تعلقات کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اسے بند کیے جانے سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
ہماری نمائندے کا کہنا ہے کہ موجودہ بات چیت کافی محدود سطح کی ہے لیکن اس سے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام جیسے اہم مسائل پر بات چیت کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔







