معزول صدر مرسی ٹھیک ہیں: کیتھرین ایشٹن

یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن نے مصر کے معزول صدر محمد مرسی سے کسی نامعلوم مقام پر ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد یورپی یونین کی نمائندہ نے کہا ہے کہ معزول صدر خیریت سے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ انہیں کہاں رکھاگیا ہے۔
بیرنس کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ ان کی محمد مرسی سے دو گھنٹے کی ملاقات ہوئی ہے لیکن انہوں نےاس ملاقات کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔
بیرنس ایشٹن نے کہا کہ محمد مرسی کو جہاں بھی رکھا گیا ہے وہاں انہیں ٹیلویژن اور اخبارت تک رسائی ہے اور وہ اپنی معزولی کے بعد مصر کے حالات سے پوری طرح باخبر ہیں۔
مصری فوج نے صدر محمد مرسی کو تین جولائی کو معزول کر دیا تھا اور انہیں اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے۔
محمد مرسی کی برطرفی کے بعد ان کے حامیوں نے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ اخوان المسلمین نے قاہرہ کی ایک مسجد کے باہر دھرنا دے رکھا ہے۔ محمد مرسی کے حامیوں نے منگل کے روز بھی احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
مصر کی عبوری حکومت نے متنبہ کیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائےگا۔ سنیچر کے روز ہونے والے پرتشدد احتجاج میں محمد مرسی کے ستر سے زیادہ حامی ہلاک ہو گئے تھے۔
کچھ اطلاعات کے مطابق کیتھرین ایشٹن کو محمد مرسی سے ملاقات کے لیے ایک ہیلی کاپٹر میں لے جایا گیا جس سے اشارہ ملتا ہے کہ انہیں قاہرہ سے باہر کسی مقام پر رکھا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیرنس کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ محمد مرسی کے ساتھ دوستانہ ماحول میں بات چیت ہوئی لیکن جو مرسی نے ان سے کہا ہے وہ اسے دہرانے کی کوشش نہیں کریں گی۔ بیرنس ایشٹن نے کہا کہ اگر ان سے غلطی ہو گئی تو محمد مرسی اس کی تصیح کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دونوں فریقین سے ملی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ اس عظیم ملک کو آگے بڑھنا ہے اور موجودہ صورتحال کا کوئی پرامن حل نکالنا ضروری ہے۔
کیتھرین ایشٹن نے مصری سیاستدان محمد البرادعی سے بھی ملاقات کی۔ محمد البرادعی نے یورپی یونین کی نمائندہ کو بتایا کہ مصر کی عبوری حکومت وہ سب کچھ کر رہی ہے جو وہ کر سکتی ہے۔
مصر میں بی بی سی کے نمائندہ جم موئر کے مطابق مصر کے لوگ یہ جاننے کے منتظر ہیں کہ اس ملاقات سے موجودہ صورتحال پر قابو پانے میں کیا مدد مل سکتی ہے۔ بی بی سی کے نمائندہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں کسی مثبت پیش رفت کی گنجائش انتہائی محددو ہے۔
محمد مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جب تک محمد مرسی کو ان کی پوزیشن پر بحال نہیں کیا جاتا وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔







