تین کروڑ لڑکیوں کی ختنہ کا خطرہ: یونیسیف

بعض افریقی ممالک میں یہ رسم عام ہے
،تصویر کا کیپشنبعض افریقی ممالک میں یہ رسم عام ہے

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک تحقیق کے مطابق آئندہ دس برسوں میں تین کروڑ لڑکیوں کو ان کے جنسی عضو مسخ کیے جانے کا خطرہ درپیش ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج دنیا بھر میں ساڑھے بارہ کروڑ ایسی خواتین زندہ ہیں جو اس مرحلے سے گزر چکی ہیں لیکن جن ممالک میں اس رسم کا رواج ہے ان میں سے بیشتر ملکوں میں اب اس کی مخالفت ہو رہی ہے۔

بعض افریقی، مشرق وسطیٰ اور ایشیائي برادریوں میں خواتین کے جنسی عضو مسخ کیے جانے (ایف جی ایم) کا رواج ہے۔ان کا خیال ہے کہ اس سے لڑکی کی دوشیزگی یا کنوار پن برقرار رہتا ہے۔

اسے بعض معاشروں میں لڑکیوں کی ختنہ بھی کہا جاتا ہے اور لڑکیوں کے کنوارپن کو شادی تک برقرار رکھنے کے لیے اس پر بطور رسم عمل کیا جاتا ہے۔

یونیسیف لڑکیوں کے جنسی عضو کے کاٹے جانے یا ختنے کی رسم کا خاتمہ چاہتا ہے۔

اقوام متحدہ کے چلڈرن فنڈ کے سروے کو اس موضوع پر اب تک کا سب سے جامع سروے قرار دیا جا رہا ہے۔ سروے میں یہ پایا گیا ہے کہ خواتین اور مرد دونوں میں اس رسم کی حمایت کرنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔

یونیسیف کی نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر گیتا راؤ گپتا کا کہنا ہے کہ ’ایف جی ایم لڑکیوں کی صحت، ان کی بھلائی اور خود اختیاری کے حق کی خلاف ورزی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے خلاف صرف قوانین وضع کرنے سے بات نہیں بنے گی۔‘

’لڑکیوں کی ختنہ: اعداد و شمار کا جائزہ اور تبدیلی کی تلاش‘ نامی اس سروے کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جاری کیا گیا۔

اس کے لیے گذشتہ 20 سال کے دوران اُن 29 افریقی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے اعداد و شمار جمع کیے گئے جہاں لڑکیوں کی ختنہ اب بھی ہوتا ہے۔

رپورٹ میں یہ پایا گیا ہے کہ تیس سال پہلے کے مقابلے میں حالات بہتر ہوئے ہیں اور اب لڑکیوں کے ختنے کا خطرہ نسبتاً کم ہے۔

ایف جی ایم جیسی رسم کو ترک کرنے کی جانب رجحان میں اضافہ ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنایف جی ایم جیسی رسم کو ترک کرنے کی جانب رجحان میں اضافہ ہوا ہے

رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ کینیا اور تنزانیہ جیسے ملکوں میں آج کی لڑکیوں کو اپنی ماؤں کے مقابلے یہ خطرہ تین گنا کم ہے جبکہ وسط افریقی جمہوریہ بینن، عراق، لائبیریا اور نائیجیریا میں یہ خطرہ نصف ہو گیا ہے۔

لیکن صومالیہ، گنی، جبوتی اور مصر میں یہ آج بھی عام ہے جبکہ چاڈ، گمبیا، مالی، سینیگال، سوڈان اور یمن میں اس رسم کے رجحان میں کچھ کمی آئي ہے۔

چاڈ، گنی اور سرالیون میں خواتین کے مقابلے میں مرد اس رسم کے زیادہ خلاف ہیں۔

راؤ گپتا نے کہا ’اب یہ چیلنج ہے کہ لڑکیوں، خواتین، لڑکوں اور مردوں کو واضح اور پُرزور انداز میں آواز بلند کرنی چاہیے اور یہ اعلان کرنا چاہیے کہ وہ اس خطرناک رسم کو ترک کرنا چاہتے ہیں۔‘

لڑکیوں کے جنسی عضو مسخ کیے جانے میں شدید طور سے خون کا بہنا، پیشاب کرنے میں تکلیف کا سامنا، انفیکشن، بانجھ پن اور نوزائیدہ بچے کی موت کا خطرہ شامل ہوتا ہے۔