امریکی ایلچی مذاکرات کے لیے مصر پہنچ گئے

محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ان کی جماعت ان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کر رہی ہے
،تصویر کا کیپشنمحمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ان کی جماعت ان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کر رہی ہے

مصر میں فوج کی حمایت یافتہ موجودہ حکومت سے بات چیت کے لیے امریکہ کے سینیئر ایلچی ولیم برنز قاہرہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ فوج کی پشت پناہی سے تشکیل پانے والی نئی حکومت کے عہدے داروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

یہ جولائی کے آغاز میں صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد کسی اہم امریکی اہلکار کا مصر کا پہلا دورہ ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اپنے دو روزہ دورے میں ولیم برنز ہر قسم کے تشدد کے خاتمے اور جمہوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پر زور دیں گے۔ خیال رہے کہ امریکہ مصر کی فوج سے پہلے ہی معزول صدر مرسی کی رہائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔

ولیم برنز ایک ایسے وقت میں مصر آئے ہیں جب عدالتی ذرائع کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر نے محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے چودہ رہنماؤں کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس کے علاوہ پبلک پراسیکیوٹر کا دفتر معزول صدر مرسی اور اخوان المسلیمن کے بعض اراکین کے خلاف جاسوسی، مظاہرین کو ہلاک کرنے پر اکسانے، فوجی بیرکوں پر حملہ کرنے اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے جیسی شکایات کی تحقیقات بھی کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جن رہنماؤں کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں ان میں اخوان المسلمین کے سربراہ محمد بدیع بھی شامل ہیں۔

پہلے ہی اخوان المسلیمن کے بعض اراکین کے خلاف شکایات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں
،تصویر کا کیپشنپہلے ہی اخوان المسلیمن کے بعض اراکین کے خلاف شکایات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں

محمد بدایع سمیت جماعت کے دیگر اعلیٰ رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ معزول صدر محمد مرسی فوج کی حراست میں ہیں۔ اس دوران مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے متعدد مظاہرے کیے ہیں۔

ولیم برنز انتظامیہ کے ارکان کے علاوہ فوجی رہنماؤں اور اہم تاجروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

امریکہ مصر میں اسلام پسند رہنما محمد مرسی کی معزولی کے بعد کی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگر یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ دراصل فوجی بغاوت ہے تو پھر امریکہ مصر کو دی جانے والی 1.3 ارب ڈالر سالانہ کی امداد منسوخ کر سکتا ہے۔

دریں اثناء مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی نے اتوار کو تقریر میں محمد مرسی کو برطرف کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

فوج کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی گروہ کو سیاست میں حصہ لینے سے روکا نہیں جائے گا۔

’ہر سیاسی طاقت کو لازمی اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ سیاسی زندگی میں ہر کسی کے لیے موقع موجود ہے اور کسی نظریاتی تحریک کو حصہ لینے سے روکا نہیں جا رہا ہے‘۔

مصر میں معزول صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ان کی جماعت ان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کر رہی ہے جن میں اب تک درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔اخوان المسلمین نے ایک بار پھر پیر کے روز احتجاج کی کال دی ہے۔