جنگل میں پانچ افراد شیروں کے نرغے میں

محصور افراد نے ہرن کے شکار کے لیے جال بچھایا تھا لیکن غلطی سے شیر کا بچہ اس میں پھنس گیا
،تصویر کا کیپشنمحصور افراد نے ہرن کے شکار کے لیے جال بچھایا تھا لیکن غلطی سے شیر کا بچہ اس میں پھنس گیا

انڈونیشیاء میں حکام نے کہا ہے کہ سماٹرا کے جنگلوں میں شیروں کے حملے کے بعد کئی دنوں سے درختوں پر چڑھے ہوئے پانچ افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

یہ افراد جمعرات کو سماٹرا کے جنگلات میں واقع گونگ لیرر نیشنل پارک میں ایک خاص قسم کی لکڑی حاصل کرنے کے لیےگئے تھے جو لوبان کی طرح جلائی جاتی ہے اور اس سے عطر بھی تیار ہوتا ہے۔

اِن افراد نے ہرن کے شکار کے لیے جال بچھایا تھا لیکن غلطی سے شیر کا بچہ اس میں پھنس گیا اور مارا گیا اور اس کے بعد شیروں کے غول نے ان پر حملہ کر دیا اور ان کے ایک ساتھی کو مار ڈالا۔

اس دوران باقی پانچوں افراد جان بچانے کے لیے ایک ہی درخت پر چڑھ گئے اور پچھلے چار دنوں سے وہ اِسی درخت پر پناہ لیے ہوئے تھے۔

قریب کے گاؤں کے رہائشیوں نے ان افراد کو دیکھ کر موبائل فون کے ذریعے پولیس کو اطلاع دی کیونکہ گاؤں والے اپنے طور پر انہیں بچا نہیں سکتے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تیس رکنی ریسکیو علمہ سنیچر کو جنگل میں پیدل داخل ہوا۔

پیر کو پولیس نے جانوروں کو سدھانے والوں کی مدد سے شیروں کو بھگایا اور ان پانچوں کو درختوں سے نیچے اتار کر محفوظ مقام پر پہنچایا ہے۔

پولیس سربراہ ڈیکی سندانی کے مطابق علاقے سے لوگ نایاب جنگی لکڑی حاصل کرنے کے لیے اکثر جنگل میں جاتے ہیں کیونکہ یہ لکڑی کافی مہنگی فروخت ہوتی ہے۔

’لیکن اس میں خطرہ ہوتا ہے کہ کیونکہ اس جنگل میں شیر اور ہاتھی موجود ہیں‘۔

جنگل میں جانے والے اس گروپ نے ہرن کے لیے ایک جال بچھایا تھا لیکن حادثاتی طور پر اس میں شیر کا بچہ پھنس گیا۔

زخمی بچے کی آواز سن کر قریب ہی موجود شیر وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے حملہ کر کے ایک اٹھائیس سالہ شخص ڈیوڈ کو مار ڈالا۔

شیروں کی یہ نسل نایاب ہے اور صرف انڈونیشیا کے جنگلات میں پائی جاتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد تین سو پچاس تک ہے۔