افغانستان، خود کش حملے میں بارہ ہلاک

افغانستان میں نیٹو نے سکیورٹی کی ذمہ داری مقامی افغان حکام کے حوالے کر دی ہے
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں نیٹو نے سکیورٹی کی ذمہ داری مقامی افغان حکام کے حوالے کر دی ہے

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبہ اروزگان میں ایک پولیس سٹیشن پر کیےگئے خود کش حملے میں کم سے کم بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس حملے میں پانچ مزید افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں بیشتر پولیس اہلکار ہیں جو حملے کے وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔ ترین نامی مقام پر واقع اس پولیس سٹیشن سے قندھار جانے والے روڈ کی نگرانی کا کام کیا جاتا تھا۔

افغان انٹیلیجنس کے ایک سینیئر افسر محمد خپلاک نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور نے چونکہ پولیس کی وردی پہن رکھی تھی، اسی لیے وہ کھانے والے ہال میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگيا۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس حملہ آور کا تعلق پولیس سے تھا یا نہیں لیکن واضح طور پر سکیورٹی میں لاپرواہی ہوئي ہے جس کی تفتیش کی جائیگي۔

ہلاک ہونے والوں میں بعض افراد پولیس والوں کے دوست واحباب ہیں جو کھانے میں ان کے ساتھ شریک ہونے آئے تھے۔

افغان پولیس پر طالبان اکثر حملے کرتے رہے ہیں اور یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب حال ہی میں نیٹو نے ملک میں سکیورٹی کی ذمہ داری مقامی افغان فورسز کے حوالے کی ہے۔

جمعہ کے روز ہی چورا ضلع میں ایک علحیدہ روڈ بم حملے میں دو بچے ہلاک ہوئے جن کی عمریں دس اور گیارہ برس کی تھیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے جنوبی علاقوں میں گذشتہ کچھ عرصے سے عام شہریوں کی ہلاکت میں اضافہ ہوا ہے۔

زیادہ تر ہلاکتیں شدت پسندوں کی جانب سے سڑک کے کنارے نصب دیسی ساختہ بم دھماکوں کے نتیجے میں ہوئیں ہیں۔