بنگلہ دیش کی تجارتی مراعات منسوخ

بنگلہ دیش فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشناپریل میں ڈھاکہ کے نزدیک ایک فیکٹری کی عمارت کے گرنے سے گیارہ سو ستائیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بنگلہ دیش نے ملک میں مزدوروں کے حقوق اور کام کرنے کے ماحول پر تشویش کے پیشِ نظر واشنگٹن کی جانب سے تجارتی مراعات کو منسوخ کرنے کے فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے۔

یہ فیصلہ بنگلہ دیش میں مزدوروں کے حقوق اور تحفظ کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔

امریکہ نے تجارتی پروگرام (جی ایس پی) کے تحت بنگلہ دیش کی ڈیوٹی فری تجارتی مراعات کو منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔

امریکہ میں تجارتی نمائندے مائیکل فورمین کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ہونے والے متعدد واقعات اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں مزدوروں کے حقوق اور کام کے دوران ان کے تحفظ میں خامیاں ہیں۔

ڈھاکہ میں وزارتِ خارجہ نے اسےایک سخت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کپڑا بنانے کی فیکٹروں میں مزدوروں کے تحفظ کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔

بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان مراعات کو ایسے موقع پر منسوخ کرنا انتہائی افسوسناک ہے جب حکومت واضح طور پر مزدوروں کے حقوق اور فیکٹروں میں سیفٹی کے لیے اقدامات کر رہی تھی۔

اپریل میں ڈھاکہ کے نزدیک ایک فیکٹری کی عمارت کے گرنے سے گیارہ سو ستائیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آٹھ منزلہ رانا پلازہ عمارت میں دراڑوں کی شکایت کی گئی تھی اور 24 اپریل کو یہ عمارت منہدم ہو گئی۔

عمارت کے گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں نے پوری دنیا کی توجہ بنگلہ دیش کے کپڑے کی صنعت میں مزدوروں کے تحفظ کے معیار پر مرکوز کر دی تھی۔کپڑے کی ایکسپورٹ میں بنگلہ دیش چین کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔

اس حادثے کے بعد بنگلہ دیش میں کپڑے کی صنعت میں کام کرنے والے مزدوروں نے مظاہرے کیے اور عالمی سطح پر اس موضوع پر تشویش بھی ظاہر کی گئی۔

اس کے بعد حکومت کو بھی مزدوروں کے تحفظ اور حالات کے سلسلے میں کچھ اصلاحات کرنی پڑیں اور بین الااقوامی کمپنیوں نے بھی مزدوروں کی بہتری کے لیے معاہدے تجویز کیے۔

تاہم مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ آج بھی سینکڑوں فیکٹریاں کمزور عمارتوں میں کام کر رہی ہیں جس سے اس بات کا خدشہ ہے کہ ایسے حادثے کسی بھی وقت دہرائے جا سکتے ہیں۔