ڈھاکہ عمارت: 400 ہلاک 149 اب بھی لاپتہ

ڈھاکہ
،تصویر کا کیپشنملبے سے لاشیں نکالنے اور دفنانے کے عمل کے دوران بدبو کی وجہ سے کئی امدادی کارکن بیمار پڑ گئے

بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے سوار میں منہدم ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت میں مرنے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے۔

فوج کے ایک اعلی اہلکار نے بتایا ہے کہ اس کے علاوہ 149 ایسے افراد کی فہرست تیار کی کئی ہے جو ابھی بھی لا پتہ ہیں۔ ا ن کے مطابق یہ فہرست گم شدہ افراد کے لواحقین اور دوستوں کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔

دریں اثناء یوم مئی یا یوم مزدور کے موقعے سے ہزاروں افراد نے جلوس نکالے اور اس منہدم عمارت کے مالک کو سزائے موت دیئے جانے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ رانا پلازہ نامی عمارت گزشتہ بدھ کو گری تھی جس میں پانچ فیکٹریاں تھیں اور یہ کہ یہ اس ملک کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے ملبے سے 399 نعشیں اب تک نکالی جا چکی ہیں جبکہ اس حادثے میں زخمی ہونے والے تین افراد نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

فوج کے اہلکار نے کہا ہے کہ مقامی اہلکاروں کی مدد سے تیار لا پتہ افراد کی فہرست کی تصدیق ڈھاکہ ضلع کے ناظم ظل الرحمن چودھری نے کی ہے۔

اس سے قبل ہلاکتوں کا زیادہ تعداد کا اندازہ لگایا گیا تھا جو کہ ایک ہی شخص کو دو دو بار شامل کیے جانے کا نتیجہ تھا۔ اس میں زخمی ہونے والوں کی تعداد ڈھائی ہزار ہے۔

یہ عمارت اب 600 ٹن کا ملبہ ہو کر رہ گئی ہے جس میں سے 350 ٹن ملبے کو ہٹا لیا گیا ہے۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اس کے خلاف مظاہروں میں قریب 20 ہزار افراد شامل ہوئے۔ واضح رہے کہ مظاہرے دارالحکومت ڈھاکہ کے مختلف علاقوں اور دوسرشہروں میں بھی ہوئے۔

ڈھاکہ میں نکالے گئے جلوس میں کچھ لوگ بینر لیئے ہوئے تھے جن پر ’قاتلوں کو پھانسی دو‘ اور ’فیکٹری مالکان کو پھانسی دو‘ جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔

مظاہرین میں سے ایک نے لاؤڈ سپیکر پر چیخ کر کہا ’میرا بھائی مر چکا ہے، میری بہن مر چکی ہے ان کا خون رائيگاں نہیں جائے گا۔‘

یہ عمارت اب 600 ٹن کا ملبہ ہو کر رہ گئی ہے جس میں سے 350 ٹن ملبے کو ہٹا لیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنیہ عمارت اب 600 ٹن کا ملبہ ہو کر رہ گئی ہے جس میں سے 350 ٹن ملبے کو ہٹا لیا گیا ہے

بنگلہ دیشی ٹکسٹائل اور گارمنٹس ورکر لیگ کے قمرل انم نے کہا عمارت کا منہدم ہونا قتل کرنے کے مترادف ہے۔ انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم اس حادثے کے ذمہ دار افراد کے لیے سخت ترین ‎سزا چاہتے ہیں۔‘

مظاہرین نے مزدوروں کے لیے کام کرنے کی بہتر سہولیات کی مانگ بھی کی۔

گارمنٹ کی فیکٹری میں کام کرنے والے مونگید الاسلام رانا نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم مستقل مشاہرہ اور ان میں اضافہ چاہتے ہیں اور ہم اپنی فیکٹریوں میں یقینی طور پر بہتر سیفٹی انتظامات چاہتے ہیں۔‘

اس دوران رانا پلازہ کے مالک محمد سہیل رانا پولیس حراست میں ہیں۔ اس حادثے میں کل آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں فیکٹریوں کے مالکان اور انجینيئرز شامل ہیں اور ان پر لاپرواہی برتنے کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ اس عمارت میں منہدم ہونے سے ایک دن قبل ہی شگاف پڑنے شروع ہو گئے تھے لیکن وہاں کام کرنے والوں کو کام جاری رکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔

اس حادثے کے بعد سے کئی فیکٹریاں بند ہیں کیونکہ وہاں مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں۔

منگل کو بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے لوگوں سے کام پر واپس آنے کی اپیل کی تھی۔