ڈھاکہ: منہدم عمارت میں ہلاکتوں کی تعداد 160 ہو گئی

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں حکام نے بتایا ہے کہ آٹھ منزلہ عمارت گرنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 200 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ڈھاکہ کے مضافاتی علاقے میں فوج امدادی کارروائیوں میں ہاتھ بٹا رہی ہے۔
<link type="page"><caption> آٹھ منزلہ عمارت منہدم: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2013/04/130424_dhaka_collapse_gallery_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
اس منہدم ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت میں ملبوسات بنانے کے ایک کارخانے کے علاوہ ایک بینک اور متعدد دکانیں تھیں اور جس وقت یہ منہدم ہوئی وہاں ہجوم تھا۔
ڈھاکہ میں بی بی سی کے نمائندے امبراسن ایتھیراجن کا کہنا ہے کہ ابھی تک عمارت کے منہدم ہونے کے اسباب کا پتا نہیں چل سکا ہے جب کہ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں منگل کے روز شگاف دیکھا گیا تھا۔
پولیس نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ بدھ کی صبح پہلے تو اچانک عمارت کا عقبی حصہ گرا جس کے تھوڑی ہی دیر میں پوری عمارت زمیں بوس ہو گئی۔
خبروں میں کہا گیا ہے کہ رانا پلازا نامی اس عمارت کی نچلی منزل ہی سلامت بچی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کہ کہنا ہے کہ آگ بجھانے والے عملے اور فوج کے جوان امدادی سرگرمیوں میں شامل ہیں اور ملبے کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔

مقامی پولیس چیف محمد اسدالزماں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حالات ’تباہ کن‘ ہیں۔
ملبوسات کی فیکٹری میں کام کرنے والے ایک کاریگر نے مقامی ٹی وی سوموئی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں فیکٹری کے کٹنگ کے شعبے میں کام کرتا ہوں، اچانک ہم نے عمارت کے گرنے کی زور دار آواز سنی اور عمارت چند منٹوں میں گر گئی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں ملبہ ہٹا کر دو افراد کے ساتھ باہر نکلا لیکن میرے کٹنگ کے شعبے کے کم از کم تیس افراد کے بارے میں ابھی کچھ معلوم نہیں ہے۔‘
اس سے قبل نومبر میں کپڑوں کی ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی تھی جس میں کم از کم 110 افراد مارے گئے تھے اور دارالحکومت ڈھاکہ میں ہی 2010 میں ایک چار منزلہ عمارت کے منہدم ہونے کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
بنگلہ دیش میں حفاظتی معیار سے غفلت کے نتیجے میں عمارتوں کے منہدم ہونےکے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔







