بنگلہ دیش:300 سے زیادہ ہلاک، سینکڑوں تاحال لاپتہ

فوج اور فائربریگیڈ کی امدادی ٹیمیں ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں
،تصویر کا کیپشنفوج اور فائربریگیڈ کی امدادی ٹیمیں ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں

بنگلہ دیش میں دو روز قبل منہدم ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ایک بڑے گروہ کا پتہ چلا لیاگیا ہے جنہیں سنیچر کے روز نکال لیا جائے گا۔

دو روز قبل منہدم ہونے والی اس عمارت میں 300 لاشوں کو نکالا جا چکا ہے۔ امدادی کارکنوں نے کہا ہے کہ انہوں نے عمارت کی تیسری منزل پر پھنسے ہوئے پچاس کے قریب لوگوں کا پتا چلا لیا ہے۔

فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پھنسے ہوئے ان لوگوں کو سنیچر کے روز نکال لیا جائے گا۔

دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب سوار کے علاقے میں واقع رانا پلازہ نامی یہ عمارت بدھ کی صبح گر گئی تھی۔ اس عمارت میں ملبوسات تیار کرنے والے کارخانے واقع تھے۔

جب عمارت گری تو اس میں 2000 کے قریب افراد موجود تھے اور اب تک عمارت کے ملبے سے 40 افراد کو زندہ نکالا جا سکا ہے۔

مقامی ہسپتالوں میں اب تک 1000 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا ہے جبکہ امدادی ٹیموں کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 372 ایسے افراد کے نام آئے ہیں جو تاحال لاپتہ ہیں۔

ڈھاکہ اور اس کے نواحی علاقے میں جمعہ کو بھی سینکڑوں افراد نے مظاہرے کیے ہیں جو کارخانوں کے مالکان کی گرفتاری اور حالاتِ کار میں بہتری کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ مالکان نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ عمارت کا ڈھانچہ محفوظ نہیں ہے کارکنوں کو کام جاری رکھنے کو کہا تھا۔

پولیس کے مطابق ان مظاہروں میں دس ہزار افراد شریک ہوئے اور صورتحال ’کشیدہ‘ رہی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے ڈھاکہ میں کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی اور ربر کی گولیاں چلائیں۔

پولیس کے مطابق تباہ ہونے والی عمارت کے مالک نے اس کے ڈھانچے میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات نظرانداز کی تھیں۔ پولیس کے مطابق اس شخص کی تلاش جاری ہے اور ملک کی وزیراعظم حسینہ واجد نے کہا ہے کہ اسے ضرور سزا ملے گی۔

اب تک عمارت کے ملبے سے صرف 40 افراد کو زندہ نکالا جا سکا ہے
،تصویر کا کیپشناب تک عمارت کے ملبے سے صرف 40 افراد کو زندہ نکالا جا سکا ہے

ادھر جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جمعہ کو بھی زوروشور سے جاری رہیں اور فوج اور فائربریگیڈ کی امدادی ٹیمیں ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

امدادی ٹیمیں ملبے میں پھنسے ہوئے افراد کے لیے پانی اور خوراک کے پیکٹ بھی گرا رہی ہیں۔

ملبے میں پھنسے ہوئے ایک شخص محمد ایوب نے موقع پر موجود صحافیوں کو بتایا کہ ’میں زندہ رہنا چاہتا ہوں مگر یہاں بہت تکلیف میں ہوں۔‘ ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ ’یہاں جینا مشکل ہے۔ زندہ رہنے کے لیے اتنا درد سہنے سے تو مر جانا ہی اچھا تھا۔‘

بنگلہ دیش میں حفاظتی معیار سے غفلت کے نتیجے میں عمارتوں کے منہدم ہونے یا ان میں آتشزدگ کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔گزشتہ برس نومبر میں ڈھاکہ میں ہی کپڑوں کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 110 افراد مارے گئے تھے