ڈھاکہ: ’جنریٹرز کے باعث عمارت گری‘

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے سوار میں آٹھ منزلہ عمارت کے انہدام کی انکوائری ٹیم کے سربراہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عمارت میں لگے چار جنریٹرز کے باعث حادثہ پیش آیا ہو۔
حکومتی انکوائری ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بجلی جانے کے باعث چاروں جنریٹر چلے جس کے باعث رانا پلازہ نامی عمارت لرز اٹھی۔
انہوں نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ جنریٹرز کے ساتھ سلائی مشینیں بھی چلیں جس کے باعث عمارت گر گئی۔
انکوئری ٹیم کے سربراہ نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمارت گرنے سے پندرہ منٹ قبل ہی بجلی گئی تھی۔ بجلی جانے کے بعد جنریٹر چلر پڑے اور عمارت منہدم ہوگئی۔
اس سے قبل بنگلہ دیش میں فوجی حکام کا کہنا تھا کہ دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے سوار میں آٹھ منزلہ عمارت کے انہدام سے مرنے والوں کی تعداد 500 سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
فوج کے ایک اہلکار کے مطابق دن قبل گرنے والی اس عمارت کے ملبے سے لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ جاری ہے اور جمعہ کی صبح تک 501 لاشیں نکالی گئی ہیں۔
رانا پلازہ نامی اس عمارت میں ملبوسات تیار کرنے والے پانچ کارخانے قائم تھے اور یہ بنگلہ دیش کی تاریخ کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ ہے۔
پولیس نے اس معاملے میں اب تک عمارت کے مالک سمیت 9 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شدگان میں فیکٹریوں کے مالکان اور انجینيئرز بھی شامل ہیں اور ان پر لاپرواہی برتنے کا الزام ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ اس عمارت میں منہدم ہونے سے ایک دن قبل ہی شگاف پڑنے شروع ہو گئے تھے لیکن وہاں کام کرنے والوں کو کام جاری رکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔
جمعرات کو ڈھاکہ پولیس نے ایک اور انجینیئر کو حراست میں لیا۔ پولیس کے مطابق عبدالرزاق خان رانا پلازہ کے مالک محمد سہیل رانا کے مشیر تھے۔ رانا سہیل پر عمارت میں غیرقانونی طور پر منزلیں تعمیر کرنے کا الزام بھی ہے۔
اس حادثے کے بعد سے جمعرات کو بنگلہ دیش میں پہلی مرتبہ ملبوسات تیار کرنے والے کارخانوں میں کام شروع ہوا ہے۔ اس سے قبل حادثے کے بعد سے فیکٹریاں بند تھیں کیونکہ وہاں مسلسل مظاہرے ہو رہے تھے۔
مظاہرین حادثے کے ذمہ دار افراد کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عمارت کے انہدام سے ہونے والی ہلاکتیں قتل کے مترادف ہیں۔







