شام کی لڑائی میں ہزاروں بچے ہلاک: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں گزشتہ دو برسوں سے جاری لڑائی میں اب تک ہزاروں بچے ہلاک ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ’اطفال اور مسلح لڑائی‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مارچ 2011 سے شام میں حکومتی فورسز اور باغیوں کی لڑائی میں بچے بھی نشانہ بنے ہیں۔
رپورٹ میں بچوں کی ہلاکت کی تعداد کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومتی افواج اور باغی بچوں کو ’خودکش بمبار یا انسانی حصار‘ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ دنیا کے اُن 14 ممالک پر مشتمل ہے جہاں بچے ظلم و تشدد کا شکار ہیں۔
رپورٹ میں پہلی مرتبہ افریقی ملک مالی کا نام ’شرمناک فہرست‘ میں شامل کیا گیا ہے۔ مالی میں مسلح جماعتیں بچوں کو بھرتی کرتی ہیں اور انھیں تشدد کا نشانہ بناتی ہیں۔ رواں سال اس فہرست میں 14 ممالک کے 15 مسلح گروہوں کو شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلح گروہوں میں شامل 12 سے 15 سال کے سینکڑوں لڑکے لڑکیوں کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی جاتی ہے خاص کر لڑکیوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی نمائندہ نے رپورٹ کے اعدادوشمار بیان کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’وہ مارے جاتے ہیں، ان پر تشدد ہوتا ہے، انھیں حراست میں رکھا جاتا ہے، انھیں بھرتی کیا جاتا ہے اور اُن پر تشدد کیا جاتا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس رپورٹ میں شام کی فوج پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ باغی گروہ کے ساتھ وابستہ رہنے والے بچوں پر تشدد کرتی ہے جبکہ شام میں حزب مخالف بچوں کو لڑائی اور مدد کے لیے استعمال کر رہے ہیں جبکہ انھیں رسد کی نقل و حمل کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اقوامتحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری لڑائی میں اب تک 80 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 20 لاکھ بچے امداد کے منتظر ہیں۔







