’ایک کروڑ شامی امداد کے منتظر، پانچ بلین ڈالر درکار‘

اقوام متحدہ نے شام میں ایک کروڑ افراد کی امداد کے لیے پانچ بلین ڈالر کی رقم کی اپیل جاری کی ہے جو عالمی تنظیم کی تاریخ میں سب سے بڑی امداد کی اپیل ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اس سال کے آحر تک ایک کروڑ شامی عوام یعنی کُل آبادی کے نصف کو امداد کی ضرورت ہو گی۔

بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ شام میں کم از کم چالیس لاکھ بچوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے حکام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اتنظیم کو اتنی خطیر رقم اکٹھی کرنے میں دقت ہو گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے پہلے چھ ماہ کے لیے ڈیڑھ بلین ڈالر کی اپیل پر حکومتوں کی جانب سے سست روی پر تنقید کی۔ تاہم عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس اپیل میں سے ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر کا وعدہ کیا گیا ہے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ نے جمعہ کو پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ڈیڑھ بلین ڈالر کی اپیل کو بڑھا کر پانچ بلین کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس کی وجہ ہے کہ اندازے کے مطابق اس سال کے آحر تک پندرہ لاکھ مہاجرین کی تعداد بڑھ کر پینتیس لاکھ ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے سربراہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ شام کے ہمسایہ ممالک پر شدید دباؤ ہے کیونکہ روزانہ سات ہزار نئے مہاجرین شام سے مہاجرین کیمپوں میں آ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں بھی تقریباً ستّر لاکھ افراد بے گھر ہو جائیں گے اور وہ بھی امداد پر انحصار کریں گے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پانچ بلین ڈالر ان افراد کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں صرف ہوں گے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر شام میں آج لڑائی بند بھی ہو جاتی ہے تب بھی شامی عوام کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے ایک سال درکار ہو گا۔