افغان شہریوں سے ناروا برتاؤ کا اعتراف

دو برطانوی فوجیوں نے جرمنی میں جاری کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں تعیناتی کے دوران افغان شہریوں کے ساتھ نامناسب رویہ روا رکھا تھا۔
ایک برطانوی فوجی نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے ایک افغان بچے کے ساتھ ناشائستہ رویہ روا رکھا۔ دوسرے برطانوی فوجی نے تسلیم کیا کہ انہوں نے افغانستان میں ڈیوٹی کے دوران ایک افغان شخص کو نسلی تعصب کا نشانہ بنایا۔
ان برطانوی فوجیوں کے کمانڈر کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔
جرمنی میں جاری کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران برطانوی فوجیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے بلکہ ان تین فوجیوں کو ایکس، وائی اور زیڈ کے نام دیے گئے ہیں۔
فوجیوں کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی وجہ ان فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات بتائے گئے ہیں۔
ایکس فوجی اب فوج سے علیحدگی اختیار کر چکا ہے۔ اس فوجی پر الزام ہے کہ اس نے ایک افغان لڑکے کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی شرمگاہ پر لگانے کی کوشش کی جس کی ویڈیو عدالت میں پیش کی گئی۔
فوجی وائی اب بھی برطانوی فوج کا حصہ ہیں۔ فوجی وائی نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے ایک افغان شہری کو ’سلی پاکی‘ کہہ کر پکارا تھا۔
البتہ فوجی زیڈ جو پٹرول کمانڈر تھے، کو اپنے ماتحوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







