نوزائیدہ بچے کا ٹوائلٹ میں گرنا ’حادثہ‘ تھا

بچے کو یِن ہوا شہر میں پوجیانگ ہسپتال میں رکھا گیا جہاں سنیچر کو گٹر کے پائپ میں سے کاٹ کر نکالا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنبچے کو یِن ہوا شہر میں پوجیانگ ہسپتال میں رکھا گیا جہاں سنیچر کو گٹر کے پائپ میں سے کاٹ کر نکالا گیا تھا

چین میں گندے پانی کی نالی سے نکالے جانے والے نوزائیدہ بچے کی ماں کا کہنا ہے کہ بچہ غلطی سے ٹوائلٹ میں گر گیا تھا۔

بچے کو یِن ہوا شہر میں پوجیانگ ہسپتال میں رکھا گیا جہاں سنیچر کو ٹوائلٹ کے پائپ سے انہیں کاٹ کر زندہ نکالا گیا تھا۔

بچے کی ماں کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے پولیس کو بتایا کہ’میں نے انجانے میں بچے کو ٹوائلٹ کی سیٹ پر جنم دے دیا اور بچہ پھسل کر گندے پانی کی نالی میں جا گرا‘۔

اطلاعات کے مطابق بچے کی والدہ نے ابتدائی طور پر لوگوں کو اس واقعہ کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا مگر اس بات کا اعتراف نہیں کیا تھا کہ یہ بچہ ان کا ہے۔

چین کے خبر رساں ادارے ژی ژونگ نیوز کے مطابق اس بچے کی بائیس سالہ ماں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اسقاطِ حمل کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور انہوں نے اپنے حمل کو خفیہ رکھا تھا۔

اسی طرح سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق بچے کی ماں نے بتایا کہ انہوں نے بچے کو غیر متوقع طور پر جنم دیا اور پھر اسے بچانے کی کوشش کی مگر وہ گٹر میں پھسل کر گر گیا جس کے بعد انہوں نے مالک مکان کو اطلاع کی۔

ژنہوا نے مزید خبر میں لکھا ہے کہ ماں نے بتایا کہ وہ یہ سمجھتی تھیں کہ وہ بچے کی نگہداشت نہیں کر پائیں گیں اور انہوں نے اسی وجہ سے کسی کو نہیں بتایا کہ بچہ ان کا ہے۔

بچے کو بچائے جانے کے بعد وہ اپنے کام پر چلی گئیں اور انہوں نے بچے کی ماں ہونے کا اعتراف اس وقت کیا جب پولیس نے اس بارے میں ان سے پوچھ گچھ کی۔

چینی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا یہ واقعی میں حادثاتی طور پر ہوا یا یہ جان بوجھ کر کیا گیا۔

اس نومولود بچے کو بے بی 59 کا نام دیا گیا جو کہ ہسپتال میں ان کے انکیوبیٹر کا نمبر ہے۔

چائنہ ڈیلی اخبار کے مطابق اس بچے کو دس سینٹی میٹر کے پائپ میں سے نکالا گیا جس کا قطر چار انچ تھا۔

بچے کو سر اور بازؤوں پر معمولی خراشیں آئی ہیں مگر اب اس کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔

ہسپتال آنے والے اکثر افراد نے نے بچے کے لیے نیپیاں، کپڑے اور خشک دودھ تحفطاً دیا ہے۔

پوجیانگ ہسپتال کے سربراہ وو ژنہونگ نے اے ایف پی کو بتایا کہ بچے کی حالت ’بہتر‘ ہے اور اسے جلد ہی ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا۔

اس واقعے پر چین میں بہت شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر ویبو پر جو کہ چین میں ٹوئٹر کی طرح کی ایک ویب سائٹ ہے۔

کئی افراد نے تو یہ الزام عائد کیا ہے کہ بچے کو جان بوجھ کر پھینکا گیا تھا۔

چین میں خاندانی منصوبہ بندی کے سخت قوانین ہیں جس میں گزشتہ تین دہائیوں سے ایک خاندان ایک بچہ کی پالیسی جاری ہے۔

اس میں کئی استثنا بھی ہیں مگر ایسے جوڑوں کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے جو اس پالیسی کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔

چین میں ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں جہاں بچے شادی کے بغیر پیدا ہوئے اور انہیں لاوارث چھوڑ دیا گیا۔

چین میں بچیوں کو لاوارث چھوڑ دینے کے واقعات سامنے آتے ہیں کیونکہ روایتی طور پر لڑکوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔