بھارت: نوزائیدہ بچوں کی اموات میں سرفہرست

 بھارت میں ہر سال زچگی کے دوران چھپن ہزار عورتوں کی موت ہوتی ہے
،تصویر کا کیپشن بھارت میں ہر سال زچگی کے دوران چھپن ہزار عورتوں کی موت ہوتی ہے

بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی امدادی ادارے سیو دی چلڈرن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں پیدائش کے چوبیس گھنٹے میں ہی تین لاکھ بچے مر جاتے ہیں جو دنیا میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کا 29 فیصد ہے۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ماؤں کو بچوں کی پرورش کرنے کے لیے سب سے مشکل جگہ جمہوریہ کانگو ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماں بننے کے تین بہترین ممالک میں فن لینڈ، سویڈن اور ناروے ہیں۔

فلاحی ادارے نے 176 ممالک میں ماں کی صحت، بچوں کی اموات، تعلیم اور آمدنی کے عوامل کا موازنہ کیا۔

سیو دی چلڈرن کی طرف سے جاری رینکنگ میں آخری دس ممالک کا تعلق سب صحارا افریقہ سے ہے جہاں اوسطاً تیس میں سے ایک عورت زچگی سے پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے ہلاک ہوتی ہے اور سات میں سے ایک بچہ اپنے پانچویں سالگرہ سے پہلے مر جاتا ہے۔

جمہوریہ کانگو میں جنگ اور غربت کی وجہ سے ماؤں کی زندگی میں مشکل وقت میں کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا اور وہ کم خوراک اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔

ماؤں کے لیے دوسرے بد ترین ممالک میں صومالیہ، سیرا لیون، مالی، نائجر، گیمبیا، نائجیریا، چاڈ اور آئیوری کوسٹ ہیں۔

سیو دی چلڈرن کے مطابق سب صحارا افریقہ میں زچہ و بچہ کے اموات کی بڑی وجہ غذا کی کمی ہے۔

اس کے برعکس فن لینڈ ماں کے لیے بہترین جگہ ہے جہاں 12200 حاملہ خواتین میں سے ایک ہلاک ہوتی ہے اور بچے تقریباً سترہ سال تک رسمی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر سال تین لاکھ سے زیادہ بچے پیدا ہونے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی فوت ہوجاتے ہیں اور ماہرین کے مطابق اس کے لیے سیاسی عزم کی کمی اور حفظان صحت کا ناقص نظام ذمہ دار ہیں۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں یہ تعداد ساٹھ ہزار اور بنگلہ دیش میں اٹھائیس ہزار ہےاور ان اموات کی ایک بڑی وجہ ماؤں کو مناسب خوراک کی عدم دستیابی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماں ہونے کے لیے پہلے نمبر پر بہترین ملک فن لینڈ، دوسرے نمبر پر سویڈن اور تیسرے نمبر پر ناروے ہے
،تصویر کا کیپشنرپورٹ کے مطابق ماں ہونے کے لیے پہلے نمبر پر بہترین ملک فن لینڈ، دوسرے نمبر پر سویڈن اور تیسرے نمبر پر ناروے ہے

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں اگرچہ دنیا کی صرف چوبیس فیصد آبادی رہتی ہے لیکن یہاں نو زائیدہ بچوں کی اموات کی شرح غیرمتناسب طور پر زیادہ ہے۔ ادارے کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے اندر فوت ہونے والے بچوں میں سے چالیس فیصد کا تعلق جنوب ایشیا سے ہوتا ہے۔ کل تعداد میں سے انتیس فیصد بچے بھارت میں فوت ہوتے ہیں۔

ادارے کے علاقائی ڈائریکٹر مائک نوئل کے مطابق حالات میں بہتری تو آئی ہے لیکن پھر بھی بھارت ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہر روز ایک ہزار سے زیادہ بچے ایسی وجوہات سے فوت ہوتے ہیں جن کا تدارک ممکن ہے۔

ادارے کے مطابق ان اموات کی تین بنیادی وجوہات ہیں: زچگی کے دوران پیچیدگیاں، وقت سے پہلے بچوں کی پیدائش اور انفکشن اور اگر ماؤں اور بچوں کو حفظانِ صحت کے مناسب نظام تک رسائی دستیاب ہو تو ان اموات میں پچہتر فیصد کمی کی جاسکتی ہے۔

لیکن ادارے کے مطابق سیاسی عزم کی کمی کی وجہ سے حفظان صحت کا نظام بہتر نہیں بنایا جاسکا ہے۔ بھارت میں ہر سال زچگی کے دوران چھپن ہزار عورتوں کی موت ہوتی ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

بھارت میں تقریباً آدھی زچگیاں گھر پر ہی ہوتی ہیں اور تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان میں پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں نہ تو ڈاکٹر ہوتے ہیں اور نہ ہی ہیلتھ سینٹر جس کی وجہ سے بچوں کی جان خطرے میں پڑجاتی ہے۔