شام اور اسرائیل میں فائرنگ کا تبادلہ

گولان
،تصویر کا کیپشنشام اور اسرائیل کے درمیان گولان پہاڑی کے پاس جنگ بندی ہے اور وہاں اقوام متحدہ کی فوج بھی ہے

مقبوضہ گولان پہاڑی پر جنگ بندی لائن کے قریب اسرائیلی اور شامی فوجوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

اسرائیل کی دفاعی فوج نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اس وقت جوابی فائرنگ کی جب ان کی ایک فوجی گاڑی کو شام کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔

خبروں میں کہا گیا ہے کہ اس میں کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔

دوسری جانب شام کا کہنا ہے کہ اس نے ایک اسرائیلی گاڑی کو اس وقت تباہ کر دیا جب وہ جنگ بندی لائن پار کرکے ان کے علاقوں میں آ گئی تھی۔

حالیہ ہفتوں میں شام اور اسرائیل کے درمیاں کئی بار فائرنگ کا تبادلہ ہو چکا ہے۔

اسرائیلی ملٹری نے کہا ہے کہ ان کی فوج نے اپنی گاڑی کو شام کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے جواب میں جوابی فائرنگ کی ہے۔

شام کی فوج کے جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے ’ایک اسرائیلی گاڑی کو ان میں موجود تمام چیزوں کے ساتھ تباہ کر دیا ہے‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس نے جنگ بندی لائن عبور کیا اور اس کا رخ باغیوں کے گاؤں بئر عجم کی جانب تھا۔

اس نے متنبہ کیا ہے کہ اس کی ’خود مختاری کی خلاف ورزی‘ کی کسی بھی کوشش کا ’فوری اور سخت جواب‘ دیا جائے گا۔

اس سے قبل شام کے صدر بشار الاسد اسرائیل پر باغیوں سے تعاون کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں لیکن انھوں نے اس بارے میں ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں۔

اسی ہفتے شام نے دو بار اسرائیل کے قبضے والی گولان پہاڑی پر فائرنگ کی ہے جس میں کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان کئی بار فائرنگ کا تبادلہ ہو چکا ہے۔

بیروت میں بی بی سی کے نمائندے جم موئیر کا کہنا ہے کہ اس بار فرق صرف یہ ہے کہ شامی حکومت نے اس معاملے کو طول دے دیا ہے جبکہ اس سے قبل ہونے والے واقعات پر اس کے بیانات نہیں آئے تھے۔

اس بار شام نے مبینہ طور پر اسرائیل اور شامی باغیوں کے درمیان نزدیکی تعاون کے معاملے کو اٹھانے کے لیے اس کا استعمال کیا ہے کیونکہ بقول اس کے مجروح شامی باغیوں کا اسرائیلی طبی مراکز میں علاج ہو تا ہے۔

ہمارے نامہ نگار نے مزید کہا کہ مستقبل میں جنگ بندی لائن کی ’خلاف ورزی‘ پر شام کے ’فوری اور سخت جواب‘ دینے کی وارننگ خطے کی نازک صورت حال کی غمازی کرتا ہے جبکہ شامی بحران بین الاقوامی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہوتا جارہا ہے۔