افغان خواتین:جیل بھیجنے کے واقعات میں اضافہ

تنظیم نے امدادی ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے افغان حکومت پر دباؤ ڈالیں
،تصویر کا کیپشنتنظیم نے امدادی ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے افغان حکومت پر دباؤ ڈالیں

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق افغانستان میں خواتین کو اخلاقی جرائم کے الزامات میں جیل بھیجنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم کے مطابق گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران ایسی خواتین کی تعداد میں پچاس فیصد ہوا ہے جنہیں جیل بھیجا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ان میں زیادہ تعداد ان خواتین کی ہے جو گھریلو تشدد یا زبردستی شادی کے بعد گھر سے بھاگ گئیں تھیں۔

دیگر خواتین کو مبینہ طور پر زنا کاری یا حقیقت میں ریپ کے واقعات میں ملوث ہونے کے جرم جیل بھیجا گیا ہے۔

تنظیم نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ’حکومت خواتین کو ہراساں کرنے اور جنگی جرائم کا نشانہ بننے والی خواتین کے مسئلے سے سختی سے نمٹے‘۔

’اس وقت اخلاقی جرائم کے الزام میں چھ سو خواتین جیلوں میں قید ہیں اور یہ تعداد بارہ سال پہلے طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے سب سے زیادہ ہے اور ان میں ایک سو دس کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے‘۔

ہیومن رائٹس واچ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تین دن پہلے ہی افغانستان کی پارلیمان میں اراکین کی ہنگامہ آرائی کے باعث خواتین پر تشدد کے خلاف قانون پر بحث روک دی گئی تھی۔

افغان خواتین کے خلاف تشدد، بچوں کی شادی اور جبری شادی کے خلاف سنہ 2009 میں ایک صدارتی حکم کے ذریعے ایک قانون پاس کیا گیا تھا لیکن اسے پارلیمان کی جانب سے منظوری نہیں مل سکی تھی۔

ہیومن رائٹس واچ کی افغانستان میں محقق ہیتھر بار کے مطابق ’اخلاقی جرائم‘ کے حوالے سے عدالتی کارروائی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس کو قدامت پسند مذہبی حلقوں کے طاقتور ہونے سے منسوب کیا جا سکتا ہے اور ایک ایسے وقت جب سال دو ہزار بارہ میں ملک سے بین الاقوامی فوج نکل رہی ہے۔

انہوں نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’میرے خیال میں ہر کوئی غیر ملکیوں کے انخلا کے بارے میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ چیزیں واپس معمول پر آ جائیں گی اور مستقبل میں لوگ’خواتین کے حقوق‘ پامال کرنے میں آزاد ہوں گے‘۔

ہیومن رائٹس واچ نے صدر حامد کرزئی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدارتی آرڈیننس جاری کریں کہ خواتین کے گھر سے بھاگنے کو جرم کے طور پر نہ دیکھا جائے اور پولیس خواتین پر تشدد کے ممکنہ واقعات کی تحقیقات کرے‘۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی امدادی اداروں اور ممالک سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ افغان حکومت پر خواتین کے تحفظ کے بارے میں دباؤ ڈالیں۔